اس جنگ کو جیتنے کیلئے حکومت کے ساتھ اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے،وزیر اعلی

0 118
پشاور(پیام خیبر نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کورونا کے خلاف جنگ میں طبی عملے، سول انتظامیہ، فوج، پولیس اور ریسکیوکے ساتھ ساتھ عوام اور میڈیا کے کردارکو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کو جیتنے کیلئے حکومت کے ساتھ سب کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔اگر ہم سب متحد ہو کر ایک مربوط انداز میں اجتماعی کوششیں کریں گے تو انشاء اللہ ہم اس آزمائش میں سرخرو ہوں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ ضلع مردان میں کورونا کی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے جس کا کریڈٹ مقامی انتظامیہ کے ساتھ یہاں کے عوام کو بھی جاتا ہے خصوصاً مانگا کے عوام نے جس طرح انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کیلئے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے طبی عملے کو اس جنگ کا اصل ہیرو قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ ذاتی طور پر طبی عملے کے اس کردار پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اُن کے حوصلوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ منگل کے روز عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں قائم قرنطینہ اور آئسولیشن سنٹرز کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ مردان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ مردان کے لوگوں نے سوات کے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے ساتھ جس مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ مردان کے عوام کے نام اپنے پیغام میں محمود خان نے کہا کہ وہ احتیاطی تدابیر پر زیادہ سے زیادہ عمل کریں اور سماجی رابطوں کو کم سے کم کرنے کیلئے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں، کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بعض حکومتی فیصلوں سے یقینا لوگوں کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا ہے لیکن حکومت جو بھی کر رہی ہے وہ عوام کی جانوں کے تحفظ کیلئے کر رہی ہے اور اس سلسلے میں عوام کا تعاون ازحد ضروری ہے، یہ وقتی مشکلات ہیں جو ہمیں بہت بڑے نقصانات سے بچاسکتے ہیں، اللہ کے فضل و کرم سے مہینہ ڈیڑھ بعد حالات معمول پر آجائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ حکومت کی طرف سے اعلان کر دہ ریلیف پیکج میں تمام اضلاع کے ساتھ پورا پورا انصاف ہو گا، میں کسی ایک خاص علاقے کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں اور صوبے کے تمام علاقوں اور لوگوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اُنہوں نے احساس پروگرام کے تحت معاشرے کے کمزور طبقوں کو دیئے جانے والے ریلیف پیکج کے بارے میں بعض خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص ایک سادہ ایس ایم ایس کے ذریعے خود کو رجسٹرڈ کر سکتا ہے جس کو سکروٹنی کے بعد ریلیف مل جائے گا۔ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے اور طبی عملے کیلئے حفاظتی اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے محمود خان نے کہاکہ اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت نے آٹھ ارب روپے جاری کئے ہیں اور اب تک ڈیڑھ ارب روپے کی خریداری کی جا چکی ہے۔مزید خریداری کا عمل تیزی کے ساتھ جارہی ہے اور عنقریب ہم اس حوالے سے ساری خامیوں کو دور کریں گے۔ صوبے میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کیلئے ٹیسٹنگ کی سہولیات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹیسٹنگ کی استعداد کار روزانہ کی بنیادوں پر بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں اس مقصد کیلئے مردان سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی جارہی ہیں اور ان سارے معاملات کی وہ خودمانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ جب حالات معمول پر آئیں گے تو وہ دوبارہ مردان کا دورہ کرکے یہاں کے لوگوں کو خوشخبری دیں گے۔ قبل ازیں کمشنرمردان نے مردان میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال اور انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں وزیراعلیٰ کو بریفینگ دی۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز اور مردان سے منتخب ممبران صوبائی و قومی اسمبلی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مردان میں پانچ مختلف مقامات پر قرنطینہ مراکز قائم ہیں جن میں 2175 افراد کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے،20 بستروں پر مشتمل ہائی ڈیپنڈسی یونٹس قائم ہیں جبکہ 1757 افراد کیلئے آئسولیشن کی سہولت کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس وقت ضلع مردان میں 194 افراد قرنطینہ اور8 افراد آئسولیشن مرکز موجود ہیں۔ مصدقہ کیسزکی تعداد 92 ہے اور ابھی تک ایک فرد کو رونا سے جاں بحق ہوا ہے۔43 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔351 افراد کے ٹیسٹس موصول ہوئے ہیں جن میں 92 مثبت اور 259 منفی ہیں جبکہ 117 ٹیسٹس رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئیں۔ منگا یونین کونسل کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت علاقے میں مصدقہ کیسز کی تعداد 69 ہے۔ علاقے کے آٹھ سو خاندانوں کو مختلف اشیائے خوردنی پر مشتمل فوڈ پیکج فراہم کئے گئے ہیں پورے علاقے میں جراثیم کش سپرے کرنے کے بعد اس کو ڈی سیل کیا جار ہاہے اور دیہاتوں کو بتدریج کھولا جار ہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مردان خصوصاً منگا کے علاقے میں اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ علاقے کے لوگوں کا کردار قابل تعریف ہے۔ علاقے کے لوگوں نے حکومت کے ساتھ جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ دوسرے علاقے کے لوگوں کیلئے قابل تقلید ہے۔ اگر اس طرح عوام کا تعاون جاری رہا تو ہم بہت جلد اس جنگ کو جیتنے میں کامیاب ہو ں گے۔
Facebook Comments