ٹیکس دہندگان سے اب سرکاری اہلکار نہیں بلکہ کون رابطہ کیا کرے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

0 146

کراچی (این این آئی)ایف بی آرمیں بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی گئی ،ٹیکس دہندگان سے انسانی رابطے کو حیرت انگیز طورپر کم کرنے کافیصلہ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین محمد جہانزیب خان نے کہا ہے کہ ایف بی آرمیں بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس میں انفارمیشن و کمیونی کیشن ٹیکنالوجی ) آئی سی ٹی ) پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس جمع کرنے والوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایسا انٹر فیس بنایا جائے جس کے ذریعے انسانی رابطے کو کم سے کم کیا جاسکے۔ٹیکس قوانین اورپالیسیوں کو سہل بنانے پر بھی کام جاری ہے اور اگلے 10سالوں کے لیے ٹیکس کے اصولوں کو وضع کرنے کے لئے روڈمیپ پر بھی کام ہورہا ہے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس نافذ کئے جائیں گے جبکہ باالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کیا جارہاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کیا۔چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،وائس چیئرمین بی ایم جی طاہر خالق اور زبیر موتی والا، کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا،سینئر نائب صدر خرم شہزاد،نائب صدر آصف شیخ جاوید،سابق صدور اے کیو خلیل، محمد ہارون اگر ،شمیم احمد فرپو اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین و دیگر بھی اجلاس میں شریک تھے۔چیئرمین ایف بی آر نے بی ایم جی کے چیئرمین سراج قاسم تیلی کی جانب سے ایف بی آر کے نامناسب رویے ،کلچر ، ٹیکس دہندگان اور ٹیکس دینے والوں کے درمیان کم ہوتے اعتماد پر تحفظات کے جواب میں کہاکہ ادارے اور رویے میں تبدیلی نہ صرف ایف بی آر بلکہ کسی بھی ادارے کے لیے ایک مشکل کام ہے تاہم ایف بی آر رویے اور کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔مجھے بالکل بھی شک نہیں کہ ایف بی آر میں اکثریت تبدیلی چاہتے ہیں اور توقعات پر پورا اترتے ہوئے مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔جہانزیب خان نے اعتراف کیا کہ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے جو پہلے سے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں جبکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ نہیں دی جارہی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ایف بی آر کے پاس ہر ٹیکس گزار اور ٹیکس چور کی تمام تر معلومات موجود ہیں لیکن وہ اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کوسنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ہم ٹیکس نیٹ میں موجود اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والوں کے طرز زندگی کے بارے میں دستیاب وسیع پیمانے پر مشتمل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ آزمائشی کیس کے طور پر ایف بی آر نے حال ہی میں ٹیکس نیٹ سے باہر6500افراد کو مختلف پیرامیٹرز کے تحت نوٹس جاری کیے ہیںجس ایسے افراد کی جانب سے30ملین روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری یا کار کی خریداری کو شامل کیا گیا۔ ایف بی آر نے اِن افراد سے 3ارب روپے کی وصولی کا اندازہ لگایا ہے جس میں اب تک 1.75ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیلز ٹیکس کی چوری کی وجہ سے ایف بی آر کو بہت سے بحرانوں کا سامناہے جوکہ ایف بی آر کی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔ مختلف استثنیٰ ریجیمز کا جائزہ لیتے ہوئے سیلز ٹیکس کو بہتر طریقے سے ایڈمنسٹر کرنے کی ضرورت ہے جس نے پورے ٹیکس نظام کو خراب کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہسیلز ٹیکس کی شرح کو مناسب وقت پر کم کیا جاسکتا ہے اگر اس کا نفاذ یکساں ہو اور ساتھ ہی مختلف رعایتوں کے ساتھ تمام تر خرابیوں کودورکردیا جائے۔چیئرمین ایف بی آر نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کے بارے میں کے سی سی آئی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ اثاثے ظاہر کرنے کی اگلی اسکیم میں ان سفارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہم آپ کے ڈیٹا کے محافظ ہیں اور آپ کے ڈیٹا کو خفیہ رکھنا اور وعدوں کی پاسداری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے اتفاق کیا کہ آئینی ضمانت اور عدالتی تحفظ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کا ضرور حصہ ہونا چاہیے۔جوکچھ بھی ممکن ہوا وہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں دیا جائے گا اور اس سلسلے میں آپ کی سفارشات پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کے سی سی آئی کی طرف سے ایف بی آر کے حد سے زیادہ بے جا اختیارات پر تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان اختیارات کا منصفانہ استعمال ایف بی آر حکام کی ذمہ داری ہے۔گرفتاری یا تلاشی کے اختیارات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کی بھی تلاشی لینا یا گرفتار کرنا شروع کردیں گے۔اگر ٹیکس دہندگان اور ٹیکس جمع کرنے والے اپنے رابطوں کو بہتر بناتے ہوئے نوٹسز کا بروقت جواب دیں اور ایک دوسرے ساتھ اپنے مصائب کا تبادلہ کریں گے تو بلاشبہ ان اختیارات کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کے سی سی آئی سے درخواست کی کہ وہ ایک ٹیم نامزد کرے تاکہ وہ مختلف اجلاسوں میں ایف بی آر کے ساتھ بیٹھ سکیں جبکہ حتمی اجلاس ان کی صدارت میں ہوگا اور ان اجلاسوں میں دی جانے والی تمام مثبت اور متفقہ سفارشات کو یقینی طور پر شامل کیا جائے گا جن میں نہ صرف کاروباری سہولتوں بلکہ ریونیو پیدا کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے جو کسی بھی کاروبار کے فروغ کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔انہوں نے کے سی سی آئی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر فوری جواب دینے کے لیے اپنے دفتر سے رابطہ فرد کا بھی اعلان کیا۔کراچی چیمبر کے صدر کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میںانھوں نے واضع کیا کہ ایف بی آر صرف فائلرز کے خلاف کوئی چھاپے نہیں مارے گا جبکہ نان فائلز کے خلاف ایکشن جاری رہے گا۔چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے اپنے خطاب میں ایف بی آر کے رویے،کلچر،کام کرنے کے طریقے اور جوڑ توڑ کے ہتھکنڈوں کو تبدیل کرنے پر زور دیا جو نہ صرف تاجربرادری کا مطالبہ ہے بلکہ ’’نیا پاکستان‘‘ کے نعرے کے تحت نئی موجودہ حکومت کا بھی مطالبہ ہے۔انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ کیاایف بی آر اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ تمام افسران کے ساتھ بیٹھ کر تبدیلی لانے کے لیے ان پر زور دیں اور اگر وہ تبدیلی لانے میں رضامندنہ ہوں تو انہیں ہتھکنڈے استعمال کرنے کا جواز پیش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کے تمام افسران بدعنوان نہیں اور کئی اچھے اور ایماندار افسران بھی ادارے میں موجود ہیں انہیں آگے لانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں نہ صرف ٹیکس وصول کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے بلکہ انہیں یہ تربیت بھی دی جانی چاہیے کہ کس طرح سلوک کرنا چاہیے اور قوانین پر عمل درآمد کیسے کرانا چاہیے۔سراج قاسم تیلی نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکس نیٹ میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک بدعنوان افسران کو ہٹایا نہیں جاتا اور اچھے افسران کو ترقی نہیں دی جاتی۔ٹیکس وصولی میں صرف اسی صورت میں بہتری آئے گی جب ایف بی آر افسران کو بے جا اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے گااور اگر وہ کسی ٹیکس گزار کو جھوٹے کیس میں پھنساتے ہیں تو انہیں بھی سزا دی جانی چاہیے۔ ایف بی آر چیئرمین لازمی طور پر درست لوگوں کی صلاحیتوں کی تعمیر پر توجہ دیں جو یقیناً وافر مقدار میں ادارے میں پہلے سے ہی موجود ہوں گے بس انہیں تلاش کرکے اہم ذمے داریاں سونپنے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا کردیا جائے تو یقینی طور پر تمام ریونیو اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ایسے تمام ایماندار افسران ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کے لیے کوششیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کراچی شہرملک کا مالیاتی و صنعتی مرکز ہے جو سب سے زیادہ 70فیصد ریونیو دیتا ہے اور واپسی میں ہم صرف اس کا جائز حق اور عزت کی توقع کرتے ہیں۔انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کو مشورہ دیاکہ موجودہ ٹیکس دہندگانکو مزید نچوڑے کے بجائے ایف بی آر ایسے عناصر کے خلاف لازمی سخت کارروائی کرے جو پرتعش زندگی گزار رہے ہیں لیکن قومی خزانے میں ان کا حصہ صفر ہے۔ایف بی آر نے کافی عرصے پہلے ایسے 7لاکھ ٹیکس چوروں کی فہرست کا دعوہ کیا تھا لیکن اب تک ان عناصر سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا گیا۔اگر ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے تو اس کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی اور ملک کے ٹیکس کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ لوگ اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں آنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ ٹیکس حکام ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے میں مصروف ہیں جس سے ٹیکس نیٹ میں آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس صورتحال میں یہ زیادہ مناسب ہے کہایسے ٹیکس دہندگان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے جو وقتی طور پر ٹیکس سے بچتے ہیں اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ٹیکس چوروں کو نیٹ میں لانے کے لیے خالصاً توجہ مرکوز رکھی جائے۔انہوں نے ٹیکس جمع کرنے والی اتھارٹی کی کارکردگی اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کے لیے چیئرمین ایف بی آر کو اپنی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے اثاثے ظاہر کرنے کی ممکنہ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کے سی سی آئی نے تجویز دی تھی کہ حکومت اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کے نام سے نئی اسکیم متعارف کروائے جس میں لوگوں کو کم سے کم ٹیکس ادائیگی کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی اجازت دی جائے۔اس ضمن میں انہوں نے زور دیا کہ ویلتھ فارم کو محدود معلومات کے ساتھ لازمی طور پر آسان بنایا جائے جس سے لوگوں میں اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کی ایمنسٹی اسکیم سے 97فیصد فائدہ اٹھانے والے افرادکا تعلق کراچی سے تھا۔حکومت کو اب مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ملک کے ہر حصے سے لوگ اس سال کی ممکنہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ہزاروں افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مدد ملے گی۔نئی ایمنسٹی اسکیم کو پارلیمنٹ سے منطور کروانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس اسکیم کو خارج کرنے کے امکانات ختم کرتے ہوئے سہولت دی جاسکے جبکہ عدالتی تحفظ بھی فراہم کیا جانا چاہیے جس کے تحت ایمنسٹی اسکیم ختم یا خارج کرنے یا منسوخ کرنے کو محدود کیا جاسکے۔کے سی سی آئی کے صدر نے ایف بی آر کے بے جا اختیارات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر ظالمانہ دفعات اورکالے قوانین واپس لے جس کے نتیجے میں اِن لینڈ ریونیو افسران کے بے جا اختیارات کا خاتمہ ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جوافزائش کے نقصان اور تاجربرادری کو ذہنی اذیت دینے کا باعث ہے۔یہ قوانین ممکنہ ٹیکس دینے والوں کی ایک بڑی تعداد کو ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔درحقیقت یہ قوانین ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے سے روکنے اور ٹیکس سے بچنے کے کلچر کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیاکہ ٹیکس کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایف بی آر کے غیر ضروری اختیارات ختم کیے جائیں،آڈٹ کے طریقہ کار کی اصلاح کی جائے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے افراد سے رابطے کو کم سے کم کرتے ہوئے ہراساں کرنے کے خلاف قوانین منظور کیے جائیں۔کے سی سی آئی کے سابق صدر اے کیو خلیل نے لاہور چیمبر کے صدر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر اس قسم کے ہربوں سے گریز کرے اور چھاپے مارنے کے بجائے نوٹسز جاری کرکے وضاحت طلب کرے۔

Facebook Comments