جہانگیر ترین کے فارغ ہوتے ہی کونسی دبنگ رہنماء ’ نائب وزیر اعظم ‘ بن بیٹھے؟ تہلکہ خیز انکشاف

0 116

لاہور (نیوز ڈیسک )سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں کہاہے کہ جہانگیر ترین کے قریبی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ترین کو سائڈ لائن کر کے اسد عمر عملی طور پر نائب وزیر اعظم بن بیٹھے ہیں، ایکنک کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور کورونا کے سد باب کے لیے قومی سلامتیکمیٹی کے سربراہ بھی وہ، یوں اس خلا کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ اسد عمرنے اٹھایا ہے۔سہیل وڑائچ کا کالم ” بی بی سی اردو “ پر شائع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ آٹا اور چینی کا سکینڈل میڈیا میں آیا تو جہانگیر ترین بیرون ملک تھے، واپس آ کر وہ فوراً وزیر اعظم سے ملے اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کی، وزیر اعظم نے آٹا سکینڈل سے ترین کی برات کا اعلان کر دیا لیکن چینی سکینڈل کے حوالے سے خاموش رہے۔چینی پر ایف آئی اے کی رپورٹ باہر آئی تو وزیر اعظم اور ان کی کچن کابینہ کا ردعمل دیکھ کر ترین ششدر رہ گئے، انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں، آیا وہ بدنامی کے باوجود خاموش اور غیر سرگرم رہیں، وہ وزیر اعظم کے خلاف کھل کر بولیں اور سیاسی محاذ بنا لیں یا فی الحال مکمل رپورٹ کا انتظار کریں اور اپنی اس بدنامی کا مقابلہ سیاسی طور پر کریں۔یوں لگتا ہے کہ جہانگیر ترین نے سوچ و بچار کے بعد تیسری آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ فی الحال عمران خان کے خلاف محاذ نہیں کھولنا چاہتے، لیکن بہت سے وزرا اور اراکینِ اسمبلی ان سے رابطہ کر کے اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں۔فیصل آباد سے راجہ ریاض اور سوات سے مراد سعید تو اس حوالے سے کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے تین مشیر کھلے عام جہانگیر ترین سے ملے اور تصاویر اتروا کر میڈیا میں تشہیر کروائی۔ہر روز کسی نہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے سے جہانگیر ترین کی ملاقات ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی خود بھی ترینکے مقابلے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ علیم خان کو صوبائی وزارت سے نوازنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین کے ممکنہ اتحاد کو روکا جا سکے۔ترین کے قریبی حلقوں کو پوری طرح اندازہ ہے کہ ان کی آج حمایت کرنے والوں میں سے بہت کم ہیں جو حکومت کے مخالف کھڑے ہو سکیں گے۔ انھیں علم ہے کہ چند ایک وفادار ساتھیوں کے علاوہ باقی دراصل اپنی محرومیوں کی وجہ سے تحریک انصاف سے ناراض ہیں، ترین کیمپ کا تجزیہ یہ ہے کہ مناسب وقت بجٹ کے بعد ہو گا اسی وقت کوئی سیاسی سرگرمی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ان کا کہناتھا کہ جہانگیر ترین کے قریبی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ترین کو سائڈ لائن کر کے اسد عمر عملی طور پر نائب وزیر اعظم بن بیٹھے ہیں، ایکنک کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور کورونا کے سد باب کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ بھی وہ، یوں اس خلا کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ اسد عمرنے اٹھایا ہے۔پرنسپل سیکریٹری کی کارکردگی اور کابینہ اراکین سے ناروا سلوک کے حوالے سے جہانگیر ترین اکثر وزیر اعظم کی توجہ دلایا کرتے تھے مگر اب پرنسپل سیکریٹری کو فری ہینڈ مل گیا ہے اور وہ اور بھی طاقتور ہو گئے ہیں۔جہانگیر ترین کو علم ہے کہ وہ خود سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے نا اہل ہیں اس لیے سیاست میں ان کے متحرک ہونے کی محدود گنجائش ہے، دوسری طرف وہ بزنس مین ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ حکومت سے براہ راست ٹکر لیں۔مگران کے مشیر کہتے ہیں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بغاوت کی تو صرف ایک رکن اسمبلی مصطفیٰ کھر ان کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ تو سات ہیں اس لیے ہمت کریں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملائیں اور ایک نیا سیاسی فرنٹ بنا کر عمران اور تحریک انصاف کا مقابلہ کریں۔ یہی وہ آپشن ہے جس سے آپ کی عزت اور سیاست بچ سکتی ہے۔دیکھیں ترین اپنے کارڈز کب کھولتے ہیں، وہ پاور پالیٹکس کے ماہر ہیں پہلے اپنے پتے اچھی طرح لگائیں گے مقتدر حلقوں کی مرضی جانیں گے پھر ہی آگے بڑھیں گے۔

Facebook Comments