کورونا کے حوالے سے خرچ ہونیوالے اربوں روپے کہاں جارہے ہیں؟

0 189

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہفتہ اور اتوارکو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم ،دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4 18 اور 25 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں ہفتے اور اتوار کو بھی کھلی رکھی جائیں اور شاپنگ مالز بھی کھول دیئے جائیں ، وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کریگی، کاروبار کھول دیگی، تمام مارکیٹوں اورشاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہدار ہوں گی،کورونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے، ایس او پیزکی خلاف ورزی کی صورت میں دکان سیل نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہراساں کیا جائیگا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ،کورونا کے حوالے سے خرچ ہونے والے اربوں روپے کہاں جارہے ہیں؟ 500 ارب روپے کورونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائیگا،اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، نہیں لگتا کورونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کورونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پیز پرعمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں، آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کورونا کے بجائے بھوک سے مرجائے گا،سیل کی گئی مارکیٹس کو بھی کھولیں اور انہیں ڈرانے کے بجائے سمجھائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کراچی میں 5 بڑے مالز کے علاوہ کیا سب مارکیٹیں کھلی ہیں؟ اگر باقی مارکیٹس کھلی ہیں تو شاپنگ مال کیوں بند رکھے ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی، کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں،کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے، ہم تحریری حکم دیں گے ہفتے اور اتوارکو تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔اس موقع پر عدالت نے پورے ہفتے بھی ملک بھر کیتمام چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کا حکم دیا جبکہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایس او پیز کے مطابق شام 5 بجے تمام مارکیٹس بند کی جائیں گی۔اس کے علاوہ عدالت نے کمشنرکراچی سے شہر میں شاپنگ مالز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دے رہے ہیں، ایس او پی پر مالز میں زیادہ بہتر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔عدالت نے ملک بھرکےشاپنگ مالزکھولنے کے حوالے سے صوبوں کو وفاق سے اجازت لینے کی ہدایت کردی۔ این ڈی ایم اے نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ۔123 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہاگیاکہ این ڈی ایم اے کو وزیراعظم نے 25.3 ارب روپے مختص کیے، وزارت صحت کی جانب سے 50 ارب روپے مختص کیے گئے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانباین ڈی ایم کو 8 ارب روپے ملے، چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔ این ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم اے امداد صرف سامان کی صورت میں وصول کرتی ہے کیش رقم کی صورت میں نہیں،این ڈی ایم اے امداد کا آڈٹ کرانے کیلئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کر چکی ہے ،بارڈرز پر قرنطینہ مراکز کے حوالے سے تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہیں ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ تفتان، چمن اور طورخم پر 1200 پورٹ ایبل کنٹینر تیار کیے گئے ہیں، تفتان پر 600, چمن 300 اور 300 طورخم کے لیے مختص کیے گئے ہیں، تفتان پر 1300 افراد، چمن میں 900 اور طورخم پر 1200 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے، طورخم پر قرنطینہ مرکز کے لیے 300 کمرے تعمیر کر لیے گئے ہیں، 1200 اضافی کمرے تعمیر کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں،چمن میں 300 کمروں میں 130 زیر تعمیر ہیں، تفتان میں 600 میں سے 202 تکمیل کے قریب ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ لوکل ملٹری اتھارٹی کے مطابق مزید کمروں کی ضرورت نہیں ہے، لوکل ملٹری اتھارٹی نے ٹینٹ ویلیج کی صورت میں 1300 کمروں کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے، پاکستان ریلویز نے بھی دو ٹرینیں بطور قرنطینہ مختص کر رکھی ہیں۔دور ان سماعت این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان نےریمارکس دیے کہ اربوں روپے کی رقم ماسک اور دیگر چھوٹی اشیا پر خرچ کی گئی ہے، کورونا کے حوالے سے اربوں روپیخرچ ہوچکے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟ رقم کا حساب رکھا جائینمائندہ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہمارے لیے 25 ارب مختص ہوئے ہیں، یہ تمام رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 25 ارب تو آپ کو ملے ہیں، صوبوں کو الگ ملے ہیں اور احساس پروگرام کی رقم الگ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 500 ارب روپے کورونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائے گا، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر 600 لوگ جاں بحق ہوگئے تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟ کیا 25 ارب کی رقم سے آپ کثیر المنزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ رقم ابھی پوری طرح ملی نہیں اور اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیںچیف جسٹس پاکستان نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہورہے ہیں، ہمارا ملک کورونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت ابھی تک حاصل کیوں نہیں کرسکا؟ اس ملک کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے غلام نہیں ہیں،آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں، عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، آپ کسی پر احسان نہیں کررہے۔اس پر نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا کہ اس کا جواب وزارت صحت زیادہ بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ کورونا وائرس بظاہر پاکستان میں وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا اور پاکستان ایک ایسا ملک نہیں جوکورونا وائرس سے زیادہ بری طرح متاثر ہو۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ملک میں ہزاروں افراد دل، جگر،گردوں ، برین ہیمرج اور دیگر امراض کے سبب مرجاتے ہیں، حکومت کورونا کے علاوہ دیگر بیماریوں اور مسائل پر بھی توجہ دے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے، ایس او پیزکی خلاف ورزی کی صورت میں دکان سیل نہیں کی جائے گی اور نہ کسی کوہراساں کیا جائے گا، صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔تحریری حکم میں مزید کہا گیا کہ اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، نہیں لگتا کورونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کورونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔عدالت نے ہفتہ اور اتوارکو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاکہدو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر پیر کو ہی سے کھلیں گے جبکہ سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا اور وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی، کاروبار کھول دے گی، تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔بعد ازاں عدالت نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت (آج) منگل تک کیلئے ملتوی کردی۔

Facebook Comments