شاہ محمود قریشی نے کس چیز کا اعتراف کر لیا ، اپوزیشن کو بھی کھر ی کھر ی سنا دیں

0 93

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کی پیپلزپارٹی وفاق کی بات کرتی آج صوبائیت میں تبدیل ہوگئی ہے، وبا کی وجہ سے آج سندھ کارڈ کی نہیں ،پاکستان کارڈ کی ضرورت ہے،ہمیں مل بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا اور مشترکہ ایجنڈا بنانا ہوگا،پاکستان کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت اس وقت تک جنوبی ایشیائی ممالک میںسب سے زیادہ ہے، پھر بھی برملا اعتراف کروں گا ٹیسٹ کرنے کی تعداد ناکافی ہے،اٹھارویں ترمیم کے تحت صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے،ایران سے 5 ہزارسے زائد زائرن کو واپس بھیجنے کے لیے دروازہ کھول دیا اور پاکستان کی طرف دھکیل دیا،بہتری کی گنجائش موجود ہے ، ہم اپنے وسائل کے مطابق بہتری کی کوشش کریں گے۔وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث عائد بندشوں میں نرمی کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں کرونا ٹیسٹ کے بعد اراکین نے شرکت کی ۔اجلاس میں معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی ،تحریک مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ کورونا وائرس پر یک نکاتی ایجنڈے پر قومی اسمبلی کا فیصلہ کیا اور اپوزیشن کے مطالبے کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا چیلنج مشکل ہے اور حقیقت ہے کہ جنگ عظیم سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس کا علاج ویکسین کی صورت میں سامنے نہیں آتا اس وقت تک مختلف تجربوں سے اس کو محدود کرنے کی ہم بھی کوشش کررہے ہیں لیکن خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ دو سال لگیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘زوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی وفاق کی بات کرتی تھی لیکن آج میں حیران ہوں کہ وفاقی سوچ صوبائیت میں کیوں تبدیل ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے وفاق کی خوشبو آتی تھی لیکن اب صوبائی تعصب کی بو دیکھتا ہوں تو تشویش ہوتی ہے، اور اس پر ہمیں نظرثانی کرنی ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہاکہ وقت آگیا ہے اور یہ وبا تقاضا کرتا ہے کہ آج نیشنلاور پاکستان کارڈ ہے اور سندھ کارڈ کی آج ضرورت نہیں ہے، آج پاکستان کارڈ کی ضرورت ہے جس کو سامنے رکھ کر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت 209 ملک اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 40 لاکھ افراد متاثرجبکہ 2 لاکھ 80 ہزار 700 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔پاکستان کی صورتحال پر بات کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس قبل ایک تقابلیجائزہ آپ کے سامنے ہونا چاہیے، امریکا جس کا نظام صحت بہت جدید ہے اس کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں 80 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں جبکہ برطانیہ میں 31 اور اٹلی میں 30 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کا موازنہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے کریں، جہاں نظام صحت بھی کمزور ہے، تاہم یہاں صورتحال یہ ہے کہ 10 مئی تک 661 اموات ہوئی ہیں اور 29 ہزار سےکچھ زیادہ مثبت کیسز ہیں جبکہ 8 ہزار 23 لوگ اس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔وزیرخاجہ نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی میں سامنے آتا ہے، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ جب اس وائرس کا پہلا کیس پاکستان میں آتا ہے تو اس وقت ہماری کیا صورتحال تھی۔انہوں نے بتایا کہ جب پہلا کیس آیا تو یومیہ 100 ٹیسٹ کرنے کی سہولت تھی لیکن ہم ہماری صلاحیت 20 ہزار کیس روزانہ کرنے تکپہنچ چکی ہے۔شاہ محمود قریشی نے مطابق جب پہلا کیس آتا ہے تو ہمارے یہاں 8 لیبارٹری کام کر رہی تھی اور اب 70 سے زائد لیبارٹری کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اگر پاکستان کا موازنہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے کیا جائے تو پاکستان کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت اس وقت تک دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔انہوںنے کہاکہ آج ہماری ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 10 ہزار سے زائد ہوگئی ہے، شروع میں 8 لیبارٹریز میں ٹیسٹ ہورہے تھے اور آج 70 کے قریب لیبارٹریاں ہیں جو فعال ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں 2 اہم حقائق پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ نے بحث کا آغاز کرنا ہے، لہٰذا جب ہم بحث کرتے ہیں تو ہمیں یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ صحت کا شعبہ بنیادی طور پر 2010 میں تقسیم ہوچکا ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم اس بارے میںبات کرتے ہیں کہ تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سندھ میں 12 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جبکہ گزشتہ 10 سال مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکمرانی کرتی رہی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم انفیکشن اور اموات کی شرح کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہمیں ایک تقابلی جائزہ کرنا چاہیے، ہم ہوا میں بات نہیں کرسکتے۔انہوںنے کہاکہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں انفیکشن اور اموات کی شرح 2.17 فیصد ہے جبکہ اگر عالمی طور پراس کی اوسط دیکھیں تو یہ 6.8 فیصد ہے، پاکسان میں ابھی ہمارے سامنے چیلنج آنا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کا کرم ہے کہ اس کی رحمت ہم پر ہے۔وزیر خارجہ کے مطابق ہمارا جو خیال تھا اور جو پہلے اندازہ بنایا جارہا تھا تو اس کے تحت اب تک ہمارا نظام صحت تباہ ہوچکا ہوتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں برملا اعتراف کروں گا کہ ٹیسٹ کرنے کی تعداد ناکافی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان میں انفیکشناور اموات کی شرح 2.8 فیصد ہے اور دنیا میں 6.8 فیصد ہے، گوکہ پاکستان میں ابھی عروج آنا ہے لیکن ہم پر اللہ خاص کرم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ بنیادی فیصلے کیے جس میں کچھ اصول مرتب کیے، ایک یہ کہ ہم اپنے فیصلوں میں اجتماعی رائے اور حکمت عملی کا سہارا لیں گے، اسی سلسلے میں ہم نے 2 فورم تشکیل دئیے جس میں ایک قومی رابطہ کمیٹی کا ہے جس کی سربراہیوزیراعظم کرتے ہیں جبکہ ایک نیشنل کماںڈ اینڈ آپریشن سیںٹر ہے جس کی سربراہی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جاتی ہے اور ان کے سیکریٹری اس فورم کے ممبر ہیں، روزانہ این سی او سی کا اجلاس ہوتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ روزانہ اسد عمر تمام نمائندوں سے اپ ڈیٹ لیتے ہیں، اس کےعلاوہ مشاورت کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارا مقصد اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تاکہ اس وائرس سے لڑا جاسکے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وفاق کی ذمہ داری ہے یہ جانتے ہوئے کہ 18 ویں ترمیم کا ہم پر نفاذ ہوچکا ہے اور صوبائی خودمختاری کا موضوع بہت حساس ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ صوبوں کوفلیکسیبلٹی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا نظام 2010 میں صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے اور ان ترامیم کے بعد سندھ میں مسلسل پیپلزپارٹی اور پنجاب میں دس برس تک پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی اور یہ ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ ہمیں بھارت کو کورونا جہاد کررہا ہے اور اس عالمی وبا کو مذہبی رنگ دے رہا ہےجس کی پاکستان سختی سے مذمت کررہا ہے۔تفتان سرحد کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے لیکن میں نے ایران کے وزیر خارجہ سے خود بات کرکے ان سے کہا تھا کہ زائرین کو روکیں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا لیکن وہ پابندیوں سے متاثرہ ملک ہے اور دباؤ برداشت نہیں کرسکے.شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایران سے 5 ہزار سے زائد زائرن کو واپس بھیجنے کے لیے دروازہ کھول دیااور پاکستان کی طرف دھکیل دیا.انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت پر کورونا وائرس کے حوالے سے بات کی گئی اور انگلیاں اٹھائی گئیں، یہ ستم ظریفی ہے کہ ہم نے کن زاویوں سے عالمی وبا کو سمجھے کی کوشش کی۔صوبوں کے خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو صوبے کہتے ہیں امتیازی سلوک برتا جارہا ہے لیکن بصد احترام یہ درست نہیں ہے، بہتری کی گنجائش موجود ہے اور ہم اپنے وسائل کے مطابقبہتری کی کوشش کریں گے۔انہوںنے کہاکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بیٹھے ہوئے، میں ان کی نذر چند حقائق کروں گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک تاثر ملا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو میں واضح کردوں گا کہ ہم نے وفاقی سطح پر ایک پروگرام کا آغاز کیاجس کا نام احساس کفالت پروگرام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پورے پاکستان کے لیے اور اس وقت سندھ میں 26 ارب روپے احساس کفالت کے ذریعے پہنچادیے گئے ہیں اور 23 لاکھ کنبے اس سے مستفید ہوچکے ہیں۔

Facebook Comments