عرفان خان نے اپنے آخری خط میں کیا کچھ تحریر کیا تھا؟ ایک ایک لفظ نے سب کو رُلا دیا

0 375

ممبئی(نیوز ڈیسک ) یہ ان دردناک الفاظ میں سے کچھ ہیں جو لیجنڈاداکار عرفان خان نے دوہزار اٹھارہ میں اپنے دوست کو لکھے ہوئے ایک خط میں اپنی بیماری کا ذکرکرتے ہوئے اداکیے تھے۔ یہ خط بھارتی میڈیا میں بھی شائع ہوا تھا۔ آج ان کے انتقال کی خبرنے ایک بار پھر انکا خط ان کے چاہنے والوں کورلا گیا۔انھوں نے خط میں لکھا تھا کہ اس دنیا میں ‘غیر یقینی ہی یقینی ہے’ اور یہ کہ وہ بہت سے منصوبے اور خواب لیے اپنی ہی ترنگ میں تیزی سے چلتے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ٹکٹ کلکٹر نے پیٹھ پر تھپکی دی کہ ‘آپ کا سٹیشن آ رہا ہے پلیز اتر جائیں۔’ انھوں نے مارچ دوہزار اٹھارہ کے اوائل میں اپنے ایک پوسٹ میں اپنی ایک نادر کینسر کی بیماری کا ذکر کیا تھا کہ انھیں وہ مرض لاحق ہو گیا ہے۔ انھوں نے لکھا ’چند ماہ قبل اچانک مجھے پتہ چلا کہ مجھے نیورو اینڈرو کرائن نامی کینسر کا مرض لاحق ہے۔ میں نے پہلی بار اس مرض کے بارے میں سنا تھا۔ تلاش کرنے پر پتہ چلا کہ اس پر بہت زیادہ تحقیق نہیں ہوئی ہے۔ چونکہ یہ ایک نادر جسمانی حالت کا نام ہے اس لیے اس کے علاج بھی غیر یقینی ہے۔۔۔‘ بی بی سی کے مطابق عرفان خان نے مزید لکھا کہ انھیں ’اچانک احساس ہوا کہ وہ کسی نامعلوم سمندر میں ایک ایسے کاک کی طرح بہ رہے ہیں جس پر ان کا کوئی قابو نہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ درد کی گرفت میں ہیں۔ ’کچھ ہفتوں بعد میں ایک ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ بے انتہا درد ہو رہا ہے۔ یہ معلوم تھا کہ درد ہوگا لیکن ایسا درد۔۔۔ اب درد کی شدت محسوس ہو رہی ہے۔ نہ کوئی ڈھارس نہ کوئی دلاسہ۔ ساری کائنات اس درد میں سمٹ آئی ہے۔ درد خدا سے بھی بڑا محسوس ہوا ہے۔

Facebook Comments