ویلنٹائن ڈے فروغِ فحاشی کا دن

شافعہ افضل، اسلام آباد

0 180

اللّٰہ پاک نے انسان کو دنیا میں اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور اس کو بھیجنے کا مقصد اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھلائی اور نیکی کا فروغ بھی ہے۔ اسلام اور رسولِ پاک صلیّ اللّٰہ علیہ و آلہ وسلّم کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنا مقصدِ حیات اور دین کی تعلیمات بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم نے زندگی گزارنے کے لیے اپنے خود ساختہ اصول و ضوابط بنا لیے ہیں یہاں تک کہ دین کو بھی حسبِ ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ ہر طبقہِ زندگی میں سہی اور غلط کے معیار بدل گئے ہیں۔ غلط بات تو سو سال پہلے بھی غلط تھی اب بھی غلط ہی ہے۔ اس کا زمانے سے کیا تعلق؟ ایسی باتوں کی وجہ سے ہی معاشرے میں برائیاں اور بے حیائی عام ہو رہی ہے۔
ویلنٹائن ڈے، فرینڈ شپ ڈے اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے دن منانے کا مقصد بھی سوائے بے حیائی کے فروغ کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب انگریزوں کے پھیلائے ہوئے جال ہیں جن میں ہم جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کی اندھی تقلید میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ بہت جلد ہی ایسا وقت آئے گا جب ہمارے پاس واپسی کا راستہ بھی نہیں رہے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم انگریزوں اور دوسری قوموں سے بڑھ کر ان دنوں کو منا رہے ہیں۔
ویلنٹائن ڈے پر پورا شہر گلابوں سے سج جاتا ہے۔ لڑکے لڑکیاں جن کا آزادانہ میل جول اب کوئی بری بات نہیں سمجھا جاتا ایک دوسرے کو پھول، تحائف، کیک اور نہ جانے کیا کچھ دیتے نظر آتے ہیں۔ محض لڑکے لڑکیاں ہی نہیں بلکہ اکثر بڑی عمر کے شادی شدہ افراد بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ دوسروں کی بہنوں، بیٹیوں کے ساتھ ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں جو اپنے گھر کی خواتین کا سات پردوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ خواتین یہ بھول جاتی ہیں کہ وہ کس بے دردی سے جانتے بوجھتے ہوئے اپنی عزّت گنوا رہی ہیں۔ اپنے ہاتھوں اپنی اقدار، خاندانی روایات اور نیک نامی کا سودا کر رہی ہیں۔ اس خاتون کو سب سے زیادہ قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے جسے سب سے زیادہ گلاب ملیں۔ یعنی اس کے چاہنے والے سب سے زیادہ ہیں۔ یہ کیسی خوشی ہے جو اپنے آپ کو بیچ کر حاصل کی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو کسقدر بلند مرتبہ عطا کیا ہے نہ جانے کیوں وہ خود کو گرانے پر تل گئی ہے۔
اس ضمن میں والدین کا کردار بہت اہم ہے۔ انھیں چاہیے کہ اپنے بچّوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے انھیں چھوٹی عمر سے یہ بتائیں کہ یہ سارے دن خاص طور پر ویلنٹائن ڈے منانا بالکل غلط اور ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔ اسلام میں ان ساری خرافات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ نامحرموں کا آزادانہ میل جول غلط اور بیحیائی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ ہر حال میں اپنے بچّوں کو سہی اور غلط کا فرق واضع کر کے بتائیں اور انھیں ایسی بے حیائیوں سے روکیں۔ نہ صرف لڑکیوں کو بلکہ لڑکوں کو بھی یہ بتائیں کہ دوسری لڑکیوں کی عزّت سرِ عام نیلام کرنے کے بجائے اس کی حفاظت کریں جیسے وہ اپنے گھر کی خواتین کے لیے کرتے ہیں۔
خدارا ابھی بھی وقت ہے اپنے حصّے کا فرض ادا کریں محض دوسروں کو نصیحت کرنے اور غلط باتوں پر آنکھیں بند کر کے اس بات کا انتظار کرنے کے کہ کوئی دوسرا آئے گا اور اس بے حیائی کے سیلاب پر بند باندھے گا، کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ ہم سب اس سیلاب میں بہہ جائیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ شاید ہماری رسّی دراز کیے ہوئے ہے مگر آخر کب تک؟ اس ویلنٹائن ڈے پر اگر آپ نے کسی ایک شخص کو بھی بے حیائی پھیلانے سے روک لیا تو سمجھیں آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ کوشش کریں کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کریں اور لوگوں کو اس بے حیائی سے روکیں۔ کم از کم اپنے حصّے کا دیا ضرور روشن کریں۔

Facebook Comments