سعودی عرب کے زیر صدارت جی20 ممالک نے بڑا فیصلہ کرلیا

0 142

ریاض (ویب ڈیسک) کروناوائرس کے تناظر میں سعودی عرب کی زیرصدارت جی 20 ممالک کا اجلاس ہوا جس میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو ہرممکن سہارا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جی 20 ممالک کے وزرائے سیاحت کا ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت سعودی عرب نے کی، اس موقع پر شعبہ سیاحت کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے متعلق جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض کے باعث عالمی سطح پر سیاحت کا شعبہ 40 فیصد متاثر ہے، ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دیا جائے گا اور پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹا جائے گا۔ ’عالمی پیداوار کا 10.3 فیصد سیر و سیاحت کا شعبہ فراہم کررہا ہے، کرونا کو قابو نہ کیا گیا تو یہ شعبہ مزید تباہی کی طرف جائے گا، ممکن ہے نقصان کی شرح 70 فیصد تک پہنچ جائے، اس طرح مذکورہ شعبے سے وابسطہ لاکھوں ملازمین بھی بے روزگار ہوسکتے ہیں، فوری اقدامات کی ضرورت ہے‘ اعلامیے کے مطابق عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر سیاحت کے شعبے پر عائد پابندیوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، احتیاطی تدابیر اور محفوظ سفر یقینی بنا کر سیاحت بحال کر سکتے ہیں۔اس سے قبل عالمگیر وبا کروناوائرس سے دنیا بھر میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کے تناظر میں جی 20 ممالک نے اہم اقدام اٹھایا اور مقروض ممالک سے قرض وصولی معطل کرنے کی توثیق کردی۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے جی 20ممالک کے اعلامیے کا خیرمقدم کیا۔ جی20ممالک کی جانب سے قرض ادائیگی معطلی کی مدت12مہینے ہوگی۔ اس اقدام سے مقروض ممالک کو ریلیف ملے گا۔ ادھر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 25 ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کیا ہے، اس ریلیف کا فیصلہ کو وِڈ نائنٹین کی وبا سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث کیا گیا ہے۔ جن ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے ان میں افغانستان، برکینافاسو، سینٹرل افریقن ریپبلک، چاڈ، کوموروس، کانگو، گیمبیا، لائبیریا، مڈغاسکر، موزمبیق، جزائر سلیمان، تاجکستان، یمن، نیپال اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ ان ریلیف ممالک میں تقریباً تمام افریقی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔

Facebook Comments