قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 2018 کے تحت عام اور بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ

0 171

پشاور: قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 2018 کے تحت عام اور بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ خواتین ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد کم ہونے پر دوبارہ الیکشن کرانے کا بھی قانون لاگو ہوگا۔

قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد حلقہ بندیوں کی تشکیل کا عمل شروع ہوگیا ہے اور قبائلی علاقوں کو صوبائی اسمبلی کے لیے 16 حلقوں تقسیم کیا گیاہے حلقہ پی کے 100 سے پی کے 15 کے لیے ووٹوں کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے قبائلی اضلاع میں ووٹوں کے اندراج کے لیے خصوصی مراکز بھی قائم کردیے گئے ہیں۔

الیکش کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل سیکرٹری نگہت صدیق نے ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 2018 کے تحت ہی عام اور بلدیات انتخابات کرائے جائیں گے وہ تمام قوانین لاگو ہوں گے جس کے تحت 2015 کے الیکشن کرائے گئے ہیں۔ قوانین کے حوالے کوئی رعایت نہیں دی جارہی، خواتین کا ٹرن آؤٹ کے حوالے سے قانون بھی لاگو ہوگا جس حلقے میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ دس فیصد سے کم ہوگا وہاں نتائج کلعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے۔

نگہت صدیق کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹوں کے اندارج کے لیے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور خواتین سے بھی ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں این اے 40 باجوڑ میں خواتین ووٹوں کا تناسب 26 فیصد رہا اسی طرح ، این اے 41 باجوڑ میں 27فیصد ،این اے 42 مہمند میں 25 فیصد، این اے 44 خیبر میں 30 فیصد ، این اے 45 کرم میں 16 فیصد، این اے 46 کرم میں 38 فیصد، این اے 47 اورکزئی میں 44 فیصد ، این اے 48 شمالی وزیرستان میں 36، این اے 49 جنوبی وزیرستان میں 9 فیصد اور این اے 50 جنوبی وزیرستان میں 32 فیصد اور این اے 51 ایف آر کے علاقوں میں 34 فیصد ٹرن آؤٹ رہا میں جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے ووٹوں کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔

Facebook Comments