1کروڑ80لاکھ پاکستانیوں کیلئے بدترین خبر آگئی

0 102

کراچی (ویب ڈیسک) حکومت کے دعوے دھرے دھرے رہ گئے ۔پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے معاشی حب کراچی کے ضلع شرقی کی ایک گارمنٹ فیکٹری کے باہر درجنوں مزدور بشمول خواتین مزدوروں کے عالمی دن سے کچھ دن قبل ہی اپنی جبری برطرفی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔درحقیقت فیکٹری کے باہر احتجاج کرنے والے مذکورہ درجنوں ملازمین اپنی تنخواہ وصول کرنے آئے تھے مگر فیکٹری انتظامیہ نے انہیں زبانی طور پر بتایا کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیکٹری کو بہت مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور اب انتظامیہ کو ان مزدوروں کی خدمات کی ضرورت نہیں۔ اسی فیکٹری سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ایک اور ٹیکسٹائل فیکٹری کے باہر بھی درجنوں مزدور احتجاج کر رہے تھے، جنہیں جبری طور پر برطرف کیا گیا تھا۔ مزدوروں کی اسی طرح کی برطرفی کے حوالے سے مزدور یونین نیشنل لیبر فیڈریشن (این ایل ایف) کے صدر شمس الرحمٰن نے بتایا کہ لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے بعد خصوصی طور پر کانٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو ایسے ہی کوئی اطلاع دیے بغیر ہی نوکری سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولو سے بات کرتے ہوئے شمس الرحمٰن کا کہنا تھا گزشتہ ماہ سے حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤں کے باعث ملک بھر میں یومیہ درجنوں مزدوروں کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی نجی اداروں اور فیکٹریوں کو کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ نہ کریں لیکن اس باوجود ملازمین کی برطرفی جاری ہے۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ایسی معیشتوں اور فیکٹریوں کے لیے مراعات کا اعلان بھی کیا ہے جو لاک ڈاؤں کے دوران ملازمین کو برطرف نہیں کریں گی تاہم مزدور یونین تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ہزاروں افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کے باعث روزگار متاثر ہونے کی وجہ سے احساس پروگرام کے تحت لوگوں کو 12 ہزار روپے تک کی رقم فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے اور اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے گی۔ پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور یہ سلسلہ 9 مئی تک جاری رہے گا، خیال کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤں کی مدت میں مزید توسیع کی جائے گی، کیوں کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں 30 اپریل کی شام تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہزار 272 تک جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 361 تک جا پہنچی تھی۔

Facebook Comments