19 برس بعد ہونے والے انکشاف نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا دیا

0 181

نیو یارک (ویب ڈیسک) فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر دہشت گردانہ حملوں میں القاعدہ کے دو ہائی جیکرز کی مدد کرنے کے الزام میں ایک سعودی سفارتکار کے نام حادثاتی طور پر ظاہر کردیا۔ یاہو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشافایف بی آئی کے ایک عہدیدار نے ایک نائن الیون متاثرین کے اہل خانہ کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کے جواب میں کیا جس کے مطابق سعودی حکومت حملوں میں ملوث تھی۔ یاہو نیوز کے مطابق ایف بی آئی کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جِل سنورن کی طرف سے فائل اپریل میں دی گئی لیکن گزشتہ ہفتے کے آخر میں ان کی سیل کھولی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مسعود احمد الجراح کا نام ’غلطی‘ سے اعلامیے میں شامل کیا گیا، مسعود احمد سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک درمیانی سطح کے اہلکار تھے جسے 1999 اور 2000 میں واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق وہ سعودی عرب کی مالی امداد سے چلنے والی مساجد اور اسلامی مراکز میں وزارت اسلامی امور کے ملازمین کی سرگرمیوں کی نگرانی کے انچارج تھے۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق مسعود احمد نے دو افراد ایک عالم دین فہد التمری اور مشتبہ سعودی ایجنٹ عمر البیومی کو ہدایت کی کہ وہ حملوں سے قبل جنوری 2000 میں دو ہائی جیکرز کو امریکا میں آباد کرنے میں مدد کریں۔ رپورٹ کے مطابق مسعود احمد الجراح کا پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہیں۔ یاہو نیوز کے مطابق رپورٹ سے متعلق محکمہ انصاف سے رابطہ کیا گیا لیکن عہدیداروں نے عدالت کو مطلع کیا اور ایف بی آئی کا اعلامیہ واپس لے لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’دستاویزات غلطی سے کیس میں فائل ہوگئے‘۔

Facebook Comments