صوبائی حکومت کو شدید شرمندگی کا سامنا،ایسا فیصلہ کرلیاگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

0 183

پشاور(این این آئی)تحریک انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں شروع کیا جانے والا بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبہ تاخیر کے سبب صوبائی حکومت کے لیے ہزیمت کا سبب بن گیا،منصوبے کے حوالے سے صوبائی انسپیکشن ٹیم کی رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کے بعد اب خیبر پختونخوا حکومت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے وفاقی افسران کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے درمیان بی آر ٹی کے حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوئی۔مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں پر وفاقی افسران تعینات کیے جائیں گے۔منصوبے میں غیر معمولی تاخیر اور ڈیزائن میں سامنے آنے والے نقائص کے باعث غفلت برتنے والے 6 مزید افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ منصوبے میں سامنے آنے والے نقائص کے سبب مختلف مقامات پر تعمیرات مسمار کر کے نئے سرے سے تعمیر بھی کی جائیں گی۔دریں ا ثناء خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسف زئی نے کہا ہے کہ بی آر ٹی کے معاملے پر اپوزیشن منفی سیاست کر رہی ہے۔بیآرٹی عوامی مفاد کا منصوبہ ہے اور عوام کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلوں پر قابو پانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔اس پر بلاجواز تنقید کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔بی آر ٹی پشاور دوسرے میٹرو بس سروس کے مقابلے میں کم قیمت پر بن رہا ہے جس کا سول ورک مکمل ہو چکا ہے اور اسے جلد عوام کے لیے کھولیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان بی آر ٹی منصوبے کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔بی آر ٹی منصوبے میں ایک پائی کی بھی کرپشن ہوئی تو کسی کو معاف نہیں کریں گے۔صوبائی حکومت پی آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے اور رپورٹ میں جن جن خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کو دور کیا جائے گا۔بی آر ٹی ڈیزائن میں تبدیلی عوام کی بہتری کے لیے کی گئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلا ڈیزائن غلط تھا عوام کے فائدے کو دیکھ کر بعض جگہوں اسٹیشنز اورپلوں میں تبدیلی کی گئی ہے جس پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔شوکت یوسفزئی نے پچھلی وفاقی حکومتوں کے ناکام منصوبے اور غلط پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں نے ملک پر 30 ہزار ارب کا قرضہ چڑھا دیا ہے۔علی بابا اور چالیس چوروں نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی چھوڑے ہوئے گند کو صاف کر رہی ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت روزانہ تقریبا 17 ارب روپے فیس ادا کر رہی ہے کرپشن کے یہ بتائیں کہ کیا یہ قرضے وزیراعظم عمران خان کے لیے تھے؟انہوں نے کہا کہ ملک کو قرضوں کے دلدل سے نکالنے کے لیے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔مہنگائی پر ڈرامے کرنے والے زرداری اور نواز شریف ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس کردی تو مہنگائی ختم ہو جائے گی۔نیب مکمل طور پر آزاد ہے اور بلا اختیار کاروائی کر رہا ہے۔زرداری اور نواز نے اگر کرپشن نہیں کی کوئی تو نیب کے کیسوں سے نہ ڈریں۔

Facebook Comments