صوبے میں اشیاء خوردنوش کا وافر سٹاک موجود ہے،وزیر اعلی

0 134

پشاور(پیام خیبر نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ڈیر ہ اسماعیل خان قرنطینہ مراکز میں 121مزید افراد کے کورونا ٹیسٹ منفی آگئے ہیں اور ان افراد کو آج سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ کر دیا جائیگا۔ ان افراد میں اسلام آباد، گجرات، فیصل آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ وہ جمعرات کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور متعلقہ وفاقی وزراء کے علاوہ چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزراء اعلیٰ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں کورونا وباء کی تازہ ترین صورتحال، اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات اور کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کیلئے کئے گئے انتظامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ محمود خان نے بتایا کہ کورونا سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے اور فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی عملے کے تحفظ کو یقنی بنانے کیلئے صوبائی حکومت نے اب تک ڈیڑھ ارب روپے مالیت کے ضروری آلات اور سامان کی خریداری کر لی ہے اور خریداری کے اس عمل کو روزانہ کی بنیاد پر تیز کیا جارہاہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ گزشتہ دوہفتوں کے دوران صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ کی استعداد کار کو کافی حد تک بڑھایا گیا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر اس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اشیاء خوردنوش کا وافر سٹاک موجود ہے اور ذخیرہ اندوزی کی کوشش کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنے کیلئے نگرانی کا ایک موثر نظام وضع کیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبے میں روز مرہ استعمال کی اشیاء تیار کرنے والے صنعتوں کو مخصوص گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کرنے کی شرط پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ملک کے دیگر حصوں سے صوبے میں تبلیغ پر آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے افراد کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ اس وقت دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے تبلیغی حضرات کی ایک اچھی خاصی تعدادصوبے کے مختلف علاقوں میں موجود ہے جنہیں ان جگہوں پر قرنطینہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ان تبلیغی حضرات کو محفوظ طریقے سے اپنے اپنے صوبوں کو روانہ کرنے کیلئے بین الصوبائی سطح پر مربوط کورآڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا۔

Facebook Comments