پشاور کے مضافات میں بجلی کی آنکھ مچولی ناقابلِ برداشت ہے‘ حافظ حشمت

0 111

پشاور(سٹی رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی وسابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان نے کہا ہے کہ پشاور کے مضافات میں بجلی کی آنکھ مچولی ناقابلِ برداشت ہے پندرہ پندرہ گھنٹے کی ناروالوڈشیڈنگ سے عوام پریشانی کا شکارہے۔حکومت اور واپڈا حکام اس مسلے کے حل میں مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن میں بیس فیصد کٹوتی کا مطالبہ حکومت کے منہ پر تمانچہ ہے۔حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہم آئی ایم ایف سے ڈیکٹیشن نہیں لینگے۔وہی حکومت آج آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔پندرہ سو ہاؤس رینٹ، میڈیکل الاؤنس پندرہ سو سے دو ہزار روپے کہا کا انصاف ہے آج کل اس مہنگائی کے دور میں پندرہ سو روپے کا کرایے کا گھر کہا مل رہا ہے۔ حکومت خوش کے ناخن لیں۔ حافظ حشمت خان نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں زیادہ سے زیادہ میں اضافہ کریں۔کیونکہ مہنگائی میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے تو پاکستان کا نام بحرانستان بن گیا ہے۔کبھی چینی کا بحران کبھی آٹے کا بحران کبھی پیٹرول غائب ہونے کا بحران ڈاکٹروں کو حفاظتی کِٹ دینے کا بحران بی آر ٹی پشاور کا بحران عرض زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے تاجرِ،اساتذہ،مزدور،ڈاکٹرز،طلبہ،صحافی،وکلاء اور کاشتکار وغیرہ سب پریشان ہیں۔خصوصاً نجی سکولز کی بندش سے 15 لاکھ اساتذہ بے روزگار ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔حکومت اس بجٹ میں ان نجی تعلیمی اداروں کیلئے خصوصی فنڈ مختص کرلیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سے پہلے کہ اس ناکام حکومت کے خلاف عوام اْٹھ کھڑے ہو حکومت ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت خود مستعفی ہوجائے۔

Facebook Comments