مرحوم ماڈل قندیل بلوچ کے والدین کو حکومت کی جانب سے بڑا دھچک

0 178

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مرحوم ماڈل قندیل بلوچ کے والدین کو حکومت کی جانب سے بڑا دھچکا۔۔۔ کیا کام کردیا گیا؟ ناقابل یقین انکشاف ہوگیا۔ قندیل بلوچ کے والدین کا نا م بینظیر انکم سپورٹ سے خارج کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے ان کا نام فہرست سےخارج کر دیاگیا ہے جس کے بعد ا ن کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔تفصیلا ت کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل کے بعد ان کا گھر بینظیر انکم سپورٹ سے آنے والی امداد سے ہی چلتا تھا لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اس امداد کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قندیل بلوچ کو 2016 میں غیرت کے نام پر اس کے ہی بھائیوں کی جانب سے قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس کے گھر والوں کا خرچ بینظیر انکم سپورٹ کے تحت ہی پورا ہوتا تھا لیکن ا ب ان کی امداد کو ختم کر دیا گیا ہے۔قندیل بلوچ کی موت اس کی انٹرنیٹ پر نا مناسب ویڈیوز تھیں جس کی وجہ سے اس کے بھائیوں کی جانب سے اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ علم رہے کہ قندیل بلوچ کے والدین نہایت غریب جن کے پاس ڈیرہ غازی خاں میں ایک دو کمروں کاگھر ہے جس میں بس دو چارپائیاں ہیں۔ قندیل بلوچ جب تک زندہ تھی تب تک اس نے پورے گھر کا خرچہ اٹھایا ہوا تھا لیکن اس کی موت کے بعد اس کے گھر کا سارا خرچ بینظیر انکم سپورٹ کی دی گئی رقم سے ہی پورا کیا جاتا تھا۔ قندیل بلوچ کے والد نا بینہ ہیں جس وجہ سے وہ کوئی کام بھی نہیں کر سکتے اور ان کا علاج بھی سرکاری رقم سے ہوتا تھا جو کہ اب بند کر دی گئی ہے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے والدین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کا ایک بیٹابیرون ملک ہے لیکن ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کرتا۔واضح رہے کہ ان کی امداد کا آخری ذریعہ بینظیر انکم سپورٹ تھا جو کہ اب ان سے چھین لیا گیا ہے۔

Facebook Comments