قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گی

0 100

اسلام آباد:قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا،اجلاس بلانے کے لیے مسلم لیگ ن کی ریکوزیشن کی مدت 6 مئی کو ختم ہوجائے گی ۔ذرائع کیمطابق حکومت نے ن لیگ کی ریکوزیشن پر غور کا فیصلہ کرلیا،اجلاس بلانے کے لیے فخر امام کی کمیٹی کا 6 مئی کو ہونے والا اجلاس اب 5 مئی کو ہوگا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس میں ن لیگ کی ریکوزیشن کے حوالے سےمشاورت کی جائے گی،آئین کے مطابق ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہوتا ہے،(ن )لیگ کی جانب سے 22اپریل کو قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی گئی تھی،اسپیکر اسد قیصر نے اسمبلی سیکرٹریٹ کو کام چلانے کی ہدایات جاری کردیں۔ اسد قیصر نے کہاکہ میرے قرنطین ہونے کے باوجود اسمبلی معاملات قانون کے مطابق جاری رکھے جائیں۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پارلیمان کے اجلاس 2 ماہ سے نہیں بلائے گئے ہیں۔ایک بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ 2 ماہ سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس نہیں بلائے گئے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسمبلیوں کی تالہ بندی ختم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا اجلاس نہ بلایا جانا نہایت غیر دانشمندانہ اور نامناسب رویہ ہے، اسمبلیوں کی تالہ بندی ختم کرکے انہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ن لیگی رہنما نے تجویز دی کہ قومی اجلاس کا اجلاس کنونشن سینٹر اور سینیٹ اجلاس قومی اسمبلی ہال میں بلایا جائے

Facebook Comments