حکومت اس مشکل وقت عوام کے ساتھ کھڑی ہے، وزیراعلیٰ محمودخان

0 122
پشاور (پیام خیبر نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کورونا صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ پیکج کے طرز پر صوبائی حکومت کی طرف سے بھی عوام کیلئے پیکج کے اعلان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور عنقریب عوام خصوصاً دیہاڑی دار، مزدور، محنت کش اور یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے طبقے کیلئے ایک جامع پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پیشگی لوازمات اور انتظامات کومکمل کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ضلع خیبر کے ایک روزہ دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اپنے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل، جمرود فورٹ اور شاہ کس لیوی ٹریننگ سنٹر میں متوقع طور پر سرحد پار سے آنے والے کورونا کے مریضوں کیلئے قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز کے قیام کے حوالے سے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ہسپتال میں فی الوقت 130 مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ کرنے اور تصدیق ہونے کی صورت میں 30 مریضوں کیلئے آئسولیشن مرکز کا انتظام کیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر قرنطینہ مرکز کی گنجائش کو400 تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ قرنطینہ مرکز میں ہر ایک فرد کیلئے علیحدہ کمرہ، واش روم اور دیگر سہولیات کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ اسی طرح باڑہ میں 120 جبکہ تیراہ میں 30 افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے اور ان تمام قرنطینہ مراکز کے احاطوں میں کلورونیشن کا خصوصی بندوبست بھی کیا گیا۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیازاور سیکرٹری ریلیف عابد مجید کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے جمرود فورٹ کا بھی دورہ کیا جہاں پر نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے حکام نے کورونا کی وباء سے نمٹنے کیلئے کئے گئے اقدامات پر وزیراعلیٰ کو بریفینگ دی اور بتایا کہ این ڈی ایم اے کی طرف سے 600 افراد کو رکھنے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ نے شاہ کس لیوی ٹریننگ سنٹر کا دورہ کیااور وہاں پر بھی کورونا کے متوقع مریضوں کیلئے کئے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اُس کے دورے کا مقصد طور خم بارڈر کھلنے کی صورت میں سرحد پار سے آنے والے لوگوں کیلئے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔ ضلع خیبرمیں اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ، این ڈی ایم اے، پاک فوج اور فرانٹیر کور کی طرف سے کئے گئے انتظامات کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ صرف ضلع خیبر بلکہ پورے صوبے میں سول انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر تمام ادارے مل کر اس وباء کے پھیلاؤ کو کم سے کم کرنے کیلئے دن رات ایک کرکے کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کوششوں کو کامیاب کرنے کیلئے عوام الناس کا تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے دیگر اقدامات کے علاوہ کورونا کے مریضوں کی علاج معالجے کیلئے ہنگامی طور پر 1300 ڈاکٹرزبھرتی کئے ہیں جبکہ 800 مزید ڈاکٹرز ایک ہفتے کے اندر بھرتی کئے جائیں گے۔کورونا وباء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے مزید کہاکہ حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر اس آزمائش پر پورااُترنے کیلئے کام کر رہی ہے اگر عوام کا تعاون ساتھ رہا تو انشاء اللہ تعالیٰ بحیثیت قوم اس آزمائش میں سرخرو ہوجائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اور پوری حکومتی مشینری اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے، فی الوقت حالات تسلی بخش ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر حکومت عوام کے تحفظ کیلئے ہر وہ اقدام اُٹھائے گی جس کے حالات متقاضی ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے واضح کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں میں کوئی بھی ایک مقامی نہیں اور یہ سب تفتان سے آئے ہوئے زائرین ہیں جن کو آئسولیشن مراکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مردان کے علاقہ منگا کی صورتحال پر حکومت کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں پر قرنطینہ کردہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کا بھر پور خیال رکھا جا رہا ہے جس کے لئے وزیراعلیٰ کی ہدایات پر ایک مکمل ٹیم تعینات کر دی گئی ہے۔
Facebook Comments