چیف جسٹس حکومت پر شدید برہم،کھری کھری سنا دیں

0 155

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاقی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں، قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ دنیا کے کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر چکے ہیں۔ صدر مملکت ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیوں نہیں بلاتے؟ مشیروں اور معاونین کی فوج سے کچھ نہیں ہونا، وزیراعظم کی ایمانداری پر کوئی شک و شبہ نہیں، وزیراعظم کے پاس صلاحیت ہے کہ کام کے 10 بندوں کا انتخاب کر سکیں۔حکومتی مشیران اور وزرا مملکت پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے اور ان مشیران وزرا پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے، مشیران معاونین کابینہ پر حاوی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔یہ کیا ہو رہا ہے کابینہ کے فوکل پرسن بھی مشیران ہیں، وزیراعظم کی کابینہ غیر مؤثر ہوچکی ہے۔ معذرت کے ساتھ لیکن وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے، کیا پارلیمنٹیرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے گھبرا رہے ہیں، وفاقی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں، ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس پر ازخود نوٹس کیس پر سماعت کی اور اس ایشو پر حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کورونا پر کام کر رہی ہے، اعلی حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہہ سکتے، معاونین خصوصی کی پوری فوج ہے جن کے پاس وزرا کے اختیارات ہیں، کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث کے مبینہ الزامات ہیں ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ حکومتی کابینہ 50 رکنی ہوگئی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ا?پ نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا جبکہ وزرا اور مشیروں کی فوج در فوج آپ کے پاس ہے۔جسٹس گلزار نے کہا کہ مشیروں کو وفاقی وزرا کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ سر آپ ایسی بات نہ کریں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ظفر مرزا کیا ہیں اور اس کی کیا صلاحیت ہے، مبینہ طور پر ان کو کرپٹ کہا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا بھی کہا۔سماعت میں چیفس جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا سے مطمئن نہیں ہیں آج ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیں گے۔جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ ظفر مرزا کو ہٹانا بڑا تباہ کن ہوگا، آدھی فلائٹ میں ظفر مرزا کو تبدیل نہ کریں ساتھ ہی انہوں نے استدعا کی عدالت ظفر مرزا کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے آپ نے حکومت کی اجازت سے آٹا بھیجا پھر حکومت کی اجازت سے چینی باہر بھیجی اب ا?پ طبی ا?لات حکومت کی اجازت سے درا?مد کریں گے، آپ ہر کام حکومت کی اجازت سے کرتے ہیں۔جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ظفر مرزا نے جو بھی کیا حکومت کی اجازت سے کیا اور اس معاملے پر انکوائری جاری ہے۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ظفر مرزا کیخلاف کس معاملے کی تحقیقات جاری ہے؟ جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک شہری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں درخواست دی کہ انھوں طبی سامان بغیر ڈیوٹی چین بھجوایا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ظفر مرزا نے عدالتی ہدایت پر عمل نہیں کیا، عدالت کے سابقہ حکم میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب نہیں ا?ئے ہیں۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعداد و شمار بتائے، بریفننگ میں حکومتی ٹیم سے 5 سوال پوچھے تھے، حکومت کی ٹیم کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکی۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ کوئی ملک کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے پیشگی تیار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں، قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر چکے ہیں۔جسٹس قاضی امین احمد نے استفسار کیا کہ سماجی فاصلہ رکھنے کے لیے حکومت کیا عملدرا?مد کروا رہی ہے؟ جمعہ کے اجتماع پر اسلام آباد میں جو ہوا کیا کسی کو نظر آیا؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماجی فاصلے کے لیے عوام کو خود ذمہ داری لینا ہوگی، پولیس یا فوج 22 کروڑ عوام پر فاصلہ رکھنے کے لیے کیسے زبردستی کرسکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستی مشینری کو اجلاسوں کے علاوہ بھی کام کرنے ہوتے ہیں، کیا ملک بند کرنے سے پہلے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا؟انہوں نے استفسار کیا کہ حکومتی مشیران اور وزرا مملکت پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے اور ان مشیران وزرا پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے، مشیران معاونین کابینہ پر حاوی ہوتے نظر آ رہے ہیں

Facebook Comments