لوگوں کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لئے سندھ حکومت نے سخت فیصلے لئے ہیں،بلاول بھٹو

0 112
سکھر(یواین پی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو جاری ہونے والے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے، لوگ بیمار اور ہلاک ہورہے ہیں جبکہ کرونا وائرس کا نہ کوئی علاج ہے اور نہ کوئی ویکسین ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور لوگوں کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لئے سندھ حکومت نے سخت فیصلے لئے ہیں۔انہوں نے اپیل کی کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر عوام سندھ حکومت سے تعاون کریں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کے دوران آپ بیمار ہوجاتے ہیں تو سندھ حکومت سے رابطہ کریں تاکہ آپ کا ٹیسٹ کرایا جاسکے، اسی طرح اگر آپ کو لاک ڈاؤن کے دوران راشن کی ضرورت ہے تو آپ سندھ حکومت سے رابطہ کریں، راشن آپ کو پہنچایا جائے گا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ حکومت کی مدد کرکے ساتھ دیں تاکہ غریبوں کا خیال کیا جاسکے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ان کے علم میں ہے کہ نوکری پیشہ طبقے کو خدشہ ہوگا کہ کہیں وہ لاک ڈاؤن کے دوران بیروزگار نہ ہوجائیں، اس لئے سندھ حکومت نے حکم دیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران کوئی کسی کو بیروزگار نہیں کرسکتا بلکہ اس دورانئے کی تنخواہ بھی دینا ہوگی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوکری پیشہ افراد کو کہا کہ اگر آپ جہاں نوکری کرتے ہیں، وہ سندھ حکومت کے فیصلے کو نہیں مان رہے تو آپ ہم سے رابطہ کریں، اسی طرح چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوکری دینے والے افراد سے کہا کہ اگر وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ دیتے ہیں اور نوکری سے نہیں نکالتے تو سندھ حکومت بعد میں تعاون کرے گی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہاکہ سندھ حکومت ایسے اقدامات بھی کررہی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف بھی پہنچاسکے، انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سندھ حکومت کی مدد کرے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم سب ایک ہوجائیں تو کرونا وائرس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ 14 دن کیلئے گھروں میں نہ رہ کر ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہو تو ساری محنت ضائع ہوجائے گی اور نہ صرف زیادہ لوگ بیمار ہوجائیں گے بلکہ خدانخواستہ لوگ مر بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ سندھ حکومت سے تعاون کریں، گھر پر رہیں اور اپنی زندگی کا تحفظ کریں۔
Facebook Comments