سندھ حکومت کو امل کے والدین کو دس لاکھ روپے امداد دینے کی ہدایت

0 159

پشاور{پیام خیبر نیوز}سپریم کورٹ کی جانب سے امل عمر قتل کیس کے از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے سندھ حکومت کو امل کے والدین کو دس لاکھ روپے امداد دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ دس لاکھ روپے کی امداد امل کے والدین اور راہ امل ٹرسٹ کو برابر تقسیم کی جائے، سپریم کورٹ کی جانب سے پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس کی سندھ پولیس سے متعلق سخت آبزرویشنز، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو علم ہی نہیں کہاں گولی چلانی ہے کہاں نہیں، پولیس میں آفیسرز کا کام ہے کانسٹیبلری کا نہیں، پولیس کو عزت افسران دلا سکتے ہیں کانسٹیبل نہیں، کانسٹیبل صرف حکم مانتا اور اس چکر میں اپنے کام نکالتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ محکمہ بدنام ہونے پر کانسٹیبل کو کوئی فکر نہیں ہوتی، پولیس کو سب معلوم ہوتا ہے اسٹریٹ کرائم میں کون ملوث ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تین دن پہلے ایک لڑکے سے اسکول بیگ تک چھین لیا گیا، چار لوگ ایک نوجوان پر اسلحہ تان لیں تو وہ کیا کرے گا۔اس دوران چیف جسٹس نے پولیس میں بھرتیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے پولیس میں مزید 20 ہزار بھرتیاں ہو رہی ہیں، لگتا ہے سڑکوں پر عوام سے زیادہ پولیس ہوگی۔دوسری جانب جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ چلتی سڑک پر ڈکیتیاں ہونا پولیس کی ناکامی ہے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریکارکس دیئے کہ  کراچی میں رینجرز نے ایک لڑکے کو گولی مار کر قتل کیا تھا، رینجرز نے سپریم کورٹ تک اپنے اہلکار کا مقدمہ لڑا، پولیس واقعہ ہوتے ہی اپنا اہلکار برطرف کر دیتی ہے، پولیس اہلکاروں نے امل کو جان بوجھ کر نہیں مارا ہوگا۔

Facebook Comments