قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام منتخب نمائندوں کے ذریعہ کیے جائیں،شوکت یوسفزئی

0 162

پشاور(جنرل رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ قبائیلی اضلاع میں 84 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈر شروع ہوچکے ہیں، افواج، عوام اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی وجہ سے امن آچکا ہے، تنقید کرنا آسان ہے لیکن ہم نے ملکر ترقی کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے، ترقی کی راہ میں رخنے نہیں ڈالنے چاہئیے۔ پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات(بقیہ نمبر74)
کرانا چاہتے ہیں۔ صحت مند پاکستان کیلئے پولیو کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے بلائے گئے آل پارٹیز کانفرنس میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ انضمام کا عمل مشکل تھا جو کامیابی سے مکمل کیا، قبائلی اضلاع میں زیرو سے کام شروع کیا، قبائلی اضلاع کے تمام خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ دیئے گئے ہیں جس میں تقریبا 7 لاکھ روپے تک کا مفت علاج کیا جا سکتا ہے، نوجوانوں کو روزگار کے لیے 1 ارب کے قرضے دیئے گئے ہیں، خاصہ دار اور لیویز فورس کو کامیابی کے ساتھ پولیس میں ضم کیا گیا ہے اور عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام منتخب نمائندوں کے ذریعہ کیے جائیں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اپوزیشن کی پارٹیاں بھی حکومت میں رہ چکی ہیں کیا ان کے دور میں تمام مسائل حل ہوئے؟ ریاستی اداروں پر تنقید سے کیا وہاں پر ترقی اور امن آئے گا۔ امن کے لیے سیکورٹی اداروں، عوام اور پورے ملک نے قربانیاں دی ہیں، ملاکنڈ ڈویڑن میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت میں آپریشن ہؤا لیکن عوام نے حالات کو سمجھا اور آج وزیر اعلیٰ ملاکنڈ ڈویڑن سے ہی منتخب ہؤا ہے، جہاں آپریشن ہوتا ہے وہاں تھوڑے مسائل ہوتے ہیں لیکن اس کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اپنی پیدا کی گئی بجلی ساڑھے سات روپے فی یونٹ کے حساب سے صنعتوں کو دے رہے ہیں جس سے صوبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے بارڈر 24/7 کھول دیا ہے، افغانستان میں امن کے قیام سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں آسانی ہو گی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات صوبے اور قبائیلی اضلاع میں ایک ساتھ کرانا چاہتے ہیں، انتخابات کے لیے تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہم رمضان کے بعد انتخابات کے لئے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پولیو ابھی بھی پاکستان میں موجود ہے، پاکستان ہم سب کا ہے، صحت مند قوم اور بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے پولیو کا ہر حال میں خاتمہ کرنا ہو گا اور پولیو مہم میں بحیثیت قوم حصہ لینا ہوگا۔

Facebook Comments