شوکت یوسفزئی سے وزیر اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے اجمل وزیر کو مشیر اطلاعات مقرر کردیا، کابینہ میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری

0 141
پشاور(یواین پی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے شوکت یوسفزئی سے اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا، محمود خان نے اجمل وزیر کو مشیر اطلاعات مقرر کردیا ہے،کابینہ میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کردیا ہے، جس کے تحت وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور اجمل وزیر کے محکمے اور وزارتیں تبدیل کردی گئی ہیں۔کابینہ میں وزارتوں میں ردوبدل کے نوٹیفکیشن کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے شوکت یوسفزئی سے اطلاعات کا قلمدان واپس لے کر ان کی جگہ اجمل وزیر کو مشیر اطلاعات مقرر کردیا ہے۔ جبکہ شوکت یوسفزئی کووزارت لیبر اور ثقافت کا قلمدان سونپ دیا ہے۔ اس سے قبل کابینہ میں سیاست اور وزیراعلیٰ کے خلاف دھڑے بندی پر تین وزراء کی چھٹی کروا دی گئی تھی۔ابھی تک ان وزراء کو کابینہ میں واپس نہیں لیا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ برطرف وزراء عاطف خان اور شہرام ترکئی کو خیبرپختونخواہ کابینہ میں واپس شامل نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ سیاحت و کھیل اور نوجوانان امور کا قلمدان وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان کے پاس ہی رہے گا جبکہ محکمہ مال کا قلمدان وزیر قانون سلطان محمد کو دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی تک یہ قلم بھی کسی کو نہیں دیا گیا۔ قبل ازیں خبریں موصول ہورہی تھیں کہ شاید برطرف وزرا کو کے پی کے کابینہ میں دوبارہ شامل کرلیا جائے۔ عاطف خان اور شہرام ترکئی کی برطرفی کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں وزراء کی کابینہ میں واپسی کاعندیہ دیا تھا۔ ملاقات میں دونوں وزراء صفایاں پیش کرتے رہے، اسی دوران دونوں رہنماؤں میں بیان بازی بھی ہو گئی جس پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔برطرف وزراء  نے عمران خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف سازش کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کو ہٹانے کی سازش میں ہمارا نام سازش کے تحت ڈالا گیا جبکہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ دونوں وزراء کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ ہماری جوانی آپ کے سامنے گزری ہے۔ الیکشن کے بعد بھی ہم ساری کشتیاں جلا کر آپ کے ساتھ آئے کیونکہ ہم کہیں اور نہیں جا سکتے۔ دونوں وزراء  کی بات سن کر عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ آپ دونوں میرے سب سے زیادہ با اعتماد والے وزراء تھے، آپ دونوں کی جانب سے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نے مجھے افسردہ کیا ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ فیصلہ لینا پڑا۔
Facebook Comments