سینیٹ نے زینب الرٹ بل منظور کر لیا

0 125
اسلام آباد(یواین پی) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی ہے۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس بل میں کچھ ترامیم کی درخواست کی گئی تھی۔بل ترامیم کے بعد قائمہ کمیٹی نے منظور کیا تھا جس کے بعد بل کو سینیٹ اجلاس میں پیش کیا گیا جسے منظور کر لیا گیا ہے۔بل سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیا۔اسی موقع پربات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ایسے درندوں کو الٹا لٹکا دینا چاہیئے، ترامیم آتی رہیں گی، بل کو منظور کرنا نا گزیر ہے۔جبکہ دوسری جانب سینیٹرب جاوید عباسی نے زینب الرٹ بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ تحفظات ہیں اور بل پیش کرتے ہوئے وزیربرائے انسانی حقوق بھی موجود نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ زینب الرٹ بل قصور کی ننھی زینب کے نام سے منسوب ہے جسے دو سال قبل درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔اس کے قتل کے بعد قائمہ کمیٹی میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ اس بل کی منظوری دی جائے تا کہ اس کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اکتوبر 2019 میں اس بل کی منظوری دی تھی۔کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شروع میں اس قانون کی پابندی صرف اسلام آباد تک ہو گی، پورے پاکستان میں یہ قانون لانے کے لئے ہر صوبائی اسمبلی کو اس بل کی منظوری دینا ہو گی۔ بعد ازاں یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جسے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس بل کے مطابق بچوں سے زیادتی میں ملوث افراد کو 10 سے 14 سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔اس کے علاوہ ایک ایسی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جس پر بچوں کی گمشدگی اور اغوا کے معاملات کو فوری طور پر رپورٹ کیا جائے گا اور مقامی پولیس فوری کارروآئی کرے گی۔قومی اسمبلی کے بعد اب سینیٹ نے بھی زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی ہے۔
Facebook Comments