پاکستان نے40 سال سے افغان مہاجرین کیلئے دروازے کھلے رکھے ہیں، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

0 148

اسلام آباد(یواین پی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان نے40 سال سے افغان مہاجرین کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، پاکستان اور ایران دنیا بھر میں مہاجرین کے بڑے میزبان ممالک ہیں، پاکستان دنیا میں مہاجرین کا دوسرا بڑا میزبان ملک ہے، افغان مہاجرین کی میزبانی کی کہانی 40 سال طویل ہے جو یکجہتی، برادرانہ تعلقات اور قربانی کے جذبوں پر مبنی ہے، اقوام متحدہ کے مہاجرین کنونشن سے کئی سو سال پہلے قرآن پاک میں برابری کی بات کی گئی تھی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان میں 40 سال سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان، مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر فلپو گرینڈی سمیت اہم ملکی اور عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ 40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں، 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لئے اپنے دروزے کھلے رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا، افغان مسئلہ کا تمام تر حل افغان قیادت کی مشاورت میں ہی پنہاں ہیں، افغانستاں میں امن کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تبدیل کی جاسکتی ہیں جس سے خطے کی ترقی اور خوشحالی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی جانب سے افغان مہاجرین کی میزبانی مفاہمت کی بہترین مثال ہے اور دونوں میزبان ممالک نے اپنے افغان مہاجرین کی جس طرح میزبانی کی ہے ایسے بھائی چارے کی مثال نہیں ملتی، افغان عوام40 سال سے مسائل میں ہیں اور پاکستانی عوام ان کے ساتھ مسلسل یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ اسلام بھی پناہ تلاش کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا درس دیتا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ مہاجرین کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کی عالمی سطح پر معاون انتہائی کم رہی لیکن اس کے باوجود میزبانی میں فرق نہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تضادات کے خاتمہ اور غربت میں کمی کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے اور عالمی برادری افغان عوام کے بہتر مستقبل کے لئے اپنا کردار اد اکرے، ہمیں افغان امن عمل کی معاونت کرنی چاہیے تاکہ پناہ گزینوں کی باعزت وطن واپسی ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی اور بحالی کے لئے یو این ایچ سی آر کام کررہا ہے جس کے لئے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے تاکہ مہاجرین کو واپسی پر بحالی کے لئے مدد دی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن و امان میں بہتری سے تعمیر نو اور بحالی کے کام میں مدد ملے گی اور پناہ گزینوں کی آبادکاری بھی بہتر ہوگی جو پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے بین الاقوامی برادری اس حوالے سے عمل کرے اور انتظامات میں شراکت داری کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن وامان کا عمل تمام شراکتداروں کی مشاورت سے ہوناچاہیے جو دنیا بھر میں امن کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد اور اس میں شریک تمام وفود کی شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ ہمیں عالمی سطح پر مربوط شراکت داری کرنی ہوگی۔

Facebook Comments