ملک میں اپوزیشن اور حکومت دونوں رو رہے ہیں؛ سردارمہتاب احمد خان

0 159
  ایبٹ آباد(یواین پی)سابق گورنروزیراعلی خیبر پختون خوا سردارمہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں اپوزیشن اور حکومت دونوں رو رہے ہیں اپوزیشن نہ ہونے کے برابر ہے پارلیمنٹ کی قانون سازی کوپاکستان کے مالک اس کی جڑیں قدکے مطابق کاٹتے رہے ہیں، اداروں کو بونا بنا دیا گیا ہے وہ ایک حد سے بائر نہیں ہیں،آج سیاست اور صحافت دونوں دباو میں ہیں،جب کے سوشل میڈیا زیرو کو ہیرو بنا رہا ہے،ملک میں اپوزیشن کا ایک کردار رہا ہے ماضی کی حکومتوں میں وہ اقتدار کے گلے میں رسی ڈال دیتی تھیں اب اپوزیشن کا وجود کھوکھلا ہے جو تشویشناک ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ایبٹ آباد پریس کلب کے 40 سال مکمل ہونے پر  منعقدہ پروقار تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتیہو ئیکیاتقریب میں سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری، رکن صوبائی اسمبلی نذیر عباسی،سابق صوبائی وزیر ایوب آفریدی،علی افضل خان جدون،سابق رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار، تحریک صوبہ ہزارہ چیئرمین سردار گوہر زمان،اہلسنت والجماعت کے حاجی ایاز خان،ڈسٹرکٹ بار کے صدر اسد خان جدون،سابق تحصیل ناظم سردار شجاع احمد،جمعیت علماء اسلام کے مولانا انیس الرحمان،صابر تنولی ایڈووکیٹ، قومی وطن پارٹی کے صوبائی رہنما احمد نواز خان،صدر پریس کلب محمد عامر شہزاد جدون،جنرل سیکر ٹری راجہ محمد ہارون،ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری محمد اقبال ساغر  نے بھی خطاب کیا،اس موقع پرسابق ممبر صوبائی اسمبلی شمعون یار خان،سابق  ممبران ضلع کونسل ندیم مغل،وسیم خان جدون،سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن سردار عبدالرشید،جنرل سیکرٹری ملک شفیق اعوان، الخدمت فاونڈیشن کے  ضلعی صدر سردار محمد سرور،آل ٹریڈرز فیڈریشن کے الیکشن کمشنر سردار محمد اشرف، ہومیوڈاکٹر ایسوسی ایشن کیڈاکٹرمسعود اختر تنولی کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات،وکلاء،تاجر رہنماوں،مذہبی جماعتوں کے قائدین،صحافیوں کے علاوہ دیگر بھی شریک تھے، سردار مہتاب احمد خان کا کہناتھا ملک کی تاریخ ایبٹ آباد پریس کلب کا عملی کردار رہا ہے،ہزارہ کے خطہ کی اپنی بڑی شاندار روایات ہیں،جس میں ایبٹ آباد پریس کلب امین رہا ہے،انھوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں جتنی بھی قانون سازیاں کی گئیں وہ پاکستان کیمالک ہر ادارے کی جڑیں کاٹتے رہے ہیں،صحافت کے مقابلے میں سوشل میڈیا اپنے زور سے آچکا ہے جس پر حکومت قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہے،لوگ جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں وہ کسی  کے قابو میں نہیں ہیں، انھوں نے کہا کہ ملک کے ادارے ختم کر کے بائر سے سرمایہ کاروں کو لایا جارہا ہے اور ملک کے سرمایہ کار دوسرے ملکوں میں جارہے ہیں،ہمارا صنعت کار بنگلہ دیش کو ترجیح دے رہا ہے،کیونکہ ملک میں ان کو گھسیٹا جارہا ہے لیکن ہم مایوس نہیں ہیں،کیونکہ سیاہ رات روشن دن میں طلوع ہو گی،پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو کردار ادا کرنا ہے صحافت پر قدغن لگایا جارہا ہے اس میں قانون سازی کی ضرورت ہے ایسے حالات میں قوم کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،کیونکہ ہم دوسروں کو برا کہتے ہیں اخلاقی پستی کی ذمہ دار حکومتیں نہیں ہوتیں، سچ اور جھوٹ میں تمیز ضروری ہے،انھوں نے کہا کہ اس ملک کو اقوام عالم میں مرتبہ بنانے دلانے کے لئے اپنے اپنے بت ختم کرنا ہوں گے،انھوں نے ایبٹ پریس کلب کی کابینہ اور ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں قومی ذمہ داری اور سی پیک کے حوالے سے کردار ادا کریں گے،  تقریب کے اختتام پر مختلف شعبہ میں اعلی خدمات پیش کر نے والی اہم شخصیات کی یادگاری اور خصوصی شیلڈ اور صحافیوں کو بہترین کارکردگی کیسرٹیفیکیٹ بھی مہمان خصوصی نے تقسیم کئے۔
Facebook Comments