تنخواہ کام کرنے کی ہوتی ہے کام نہیں کیا تو تنخواہ کیسے دینے کا حکم دیں،عدالت عظمیٰ

0 146
اسلام آباد(پیام خیبر نیوز)سپریم کورٹ میں کے پی کے پی ٹی سی ٹیچرز کی برطرفی کے وقت کو سروس بینیفٹس میں شامل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ عدالت عظمی پچھلی تاریخوں سے بھرتی کا حکم نہیں دے سکتی،اگر سروس ٹریبونل نے تمام فالی فوائد دینے کا کہا تو غلط کیا،تنخواہ کام کرنے کی ہوتی ہے کام نہیں کیا تو تنخواہ کیسے دینے کا حکم دیں۔ معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت  وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ مئی 1995 میں مختلف اساتذہ کو کے پی کے میں بھرتی کیا گیا تھا،1997 میں تمام ملازمین کی تقرریوں کو سیاسی قرار دے کر نکال دیا گیا۔ صوبائی حکومت کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سروس ٹریبونل نے مختلف ملازمین کی اپیلوں پر بحالی کے وقت تمام مالی فوائد دینے کا کہا،درخواست گزاران کو سروس ٹریبونل نے بحال کرتے ہوئے صرف چارج سنبھالنے کی تاریخ سے فائدے دینے کا کہا،بہت سے  ملازمین تو بحال ہو کر ریٹائیرڈ بھی ہوچکے ہیں۔عدالت عظمی نے اس موقع پر ملازمین کو پچھلی تاریخ سے بحالی کا کہہ کر تنخواہ نہ دینے سمیت ملازمین کی صرف پنشن کے لیے ساری سروس کو کاونٹ کرنے کا حکم سناتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔ معاملہ میں کے پی کے حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے ملازمین کو تمام مراعات دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔
Facebook Comments