آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی درخواست مسترد

0 165

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔  سماعت کے دوران قاری سلام کے وکیل کی لارجربینچ بنانے کی درخواست کی۔

وکیل غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے کہا کہ معاملہ مسلم امہ کا ہے، عدالت مذہبی اسکالرزکو بھی معاونت کے لئے طلب کرے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پرسزا دی جائے، عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پردیا ہے، کیا ایسی شہادتیں قابل اعتبار نہیں اور اگرعدالت نے شہادتوں کاغلط جائزہ لیا تودرستگی کریں گے۔

وکیل غلام مصطفی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا، جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیف جسٹس اس وقت بینچ کا حصہ نہیں، وہ آپ کی بات کا جواب نہیں دیں گے اورلارجر بینچ کاکیس بنا ہوا تو ضروربنے گا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد نظر ثانی درخواست مسترد کردی، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار ایک بھی وجہ نہیں بتا سکا جسکی بنیاد پرنظر ثانی کی جاسکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آرمیں عوامی اجتماع کا کوئی ذکرنہیں کیا گیا، ایف آئی آرعوامی اجتماع کے تین گھنٹے بعد درج ہوئی، کوئی اورکیس ہوتا تو گواہان کیخلاف مقدمہ درج کرواتے،  کوئی کہتا رہا اجتماع میں 100 لوگ تھے کسی نے کہا 2000 لوگ تھے، کیا ایسے گواہان کی شہادت پر کسی کو پھانسی لگا دیں۔

جسٹس فائزعیسی نے ریمارکس دیئے کہ اتنا جھوٹ ؟ گواہان کے بیان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حلف پر گواہان نے جھوٹ بولا،  تمام گواہان نے ایک دوسرے کو جھوٹا کیا، گواہ سچے ہوتے تو فوجداری نظام میں مسائل ہی نہ ہوتے، قاری صاحب نے سچ بولنا ہوتا تو درخواست خود لکھ دیتے، مدعی نے نہ خود کچھ سنا نہ دیکھا، مدعی کونہ درخواست لکھنے والے کا علم ہے نہ دینے کی جگہ کا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ حساسیت کے پیش نظرگواہان کو جیل نہیں بھیجا، کیا ہم اسلام کا یہ تصوردے رہے ہیں جھوٹی گواہی دے کر، کیا مسلمان حلف پر جھوٹی گواہی دیتا ہے، الزام ہم پر آتا ہے کہ بری کر دیتے ہیں، پہلے اپنے گریبان مین جھانکیں کہ کیس کیا بنایا تھا۔

آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 میں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔

گزشتہ سال 31 اکتوبرکوسپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کرآسیہ بی بی کورہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

Facebook Comments