رانا ثناء اللہ کی گاڑی اے این ایف کے پاس موجود رہے گی،عدالت

0 144

لاہور(یواین پی) انسداد منشیات کی عدالت نے رانا ثنا اللہ کی گاڑی کی سپردگی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیاہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے انسداد منشیات کی عدالت میں دو درخواستیں دائر کی تھیں جن میں انہوں نے عدالت سے اے این ایف کے پاس موجود ان کی گاڑی اور کیس سے متعلق ویڈیو فراہم کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے ان کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہیکہ پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ ملزم گاڑی میں ہیروئن رکھ کر سفر کررہا تھا اور ملزم کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔عدالت نے تحریری حکم میں کہا ہے کہ اے این ایف کے قانون کے مطابق گاڑی ملزم کو فراہم نہیں کی جا سکتی، رانا ثنااللہ کی گاڑی مال مقدمے کے طور پر اے این ایف کے پاس موجود رہے گی لہذا ملزم کی گاڑی سپرد کرنے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔ یاد رہے انسداد منشیات فورس(اے این ایف)نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ رانا ثنا کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔رانا ثنا اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنا اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔رانا ثنا اللہ کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے کے دو حفاظتی مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد 26 دسمبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی بے گناہی ثابت کی تھی اور ساتھ ہی اپنے خلاف کیس بنانے والوں کو بدعائیں بھی دی تھیں۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پاک پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی تھی۔

Facebook Comments