تعمیراتی صنعت کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم

0 126
اسلام آباد (پیام خیبر نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیراتی صنعت کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، کورونا کے ساتھ ساتھ دیہاڑی دار مزدوروں کو بھوک، افلاس اور بیروزگاری سے بچانا انتہائی ضروری ہے، حکومت کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے، صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، وزارت تجارت و صنعت کو کاروبار سے متعلق حکمت عملی وضع کرنے کے لئے تاجر نمائندوں سے روزانہ کی بنیاد پر مشاورت کی ہدایت کی ہے، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں بیروزگار ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو تاجروں میں ٹیکس ریفنڈ کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کاروبارکے فروغ کے لئے مختلف پیکجز دے رہے ہیں۔ ابھی تاجروں کو ٹیکس ریفنڈ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ کاروبار کے فروغ کے لئے اس لئے تعاون فراہم کررہے ہیں کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں لوگ بیروزگار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے اثرات سے کمزور طبقہ زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور طبقے کی امداد کے لئے پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث کمزور طبقے کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو 12 ہزار روپے براہ راست دیئے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ ملک میں صنعت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے۔ بزنس کمیونٹی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ 1960ء کا دور پاکستان میں انڈسٹری کا سنہری دور تھا۔ حکومت سنبھالنے کے بعد کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کو فوری ری فنڈز دے رہے ہیں تاکہ ان کے پاس لیکویڈٹی موجود ہو۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں کورونا اور معاشی مشکلات کے اثرات سے بچاؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے اور غریب طبقہ کو بھوک اور افلاس کا شکار ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیادوں پر کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال اس کے اثرات کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیتے ہیں اور اس کے تحت آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا مشکل میں پڑی ہوئی ہے۔ موجودہ مسائل سے نبرد آزاما ہونے کے لئے باہمی مشاورت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وباء کا پھیلاؤ دنیا کی نسبت کم ہے، جس شدت سے پاکستان میں کورونا پھیل رہا ہے امید ہے اس پر قابو پا لیں گے۔ شادیوں کی تقریبات، کھیلوں، سکول اور کالجز میں ہجوم ہوتا ہے۔ ہم نے ان کو پہلے ہی بند کر دیا ہے۔ کمیونٹی کو خود بھی خیال رکھنا چاہیے اور اجتماع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صنعت و تجارت نے ایسی صنعتوں کی فہرست مرتب کرلی ہے جس کو کھولنے سے کورونا کے اثرات کم سے کم ہوں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کھولی جائے، اس حوالے سے اعلان (آج) جمعہ کو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام میں زیادہ لوگ اکٹھے نہیں ہوتے اور اس صنعت کے کھلنے سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ دیگر صنعتیں بھی کام کریں گی تاہم اس حوالے سے ایس او پیز اور شرائط لاگو کی جائیں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ بھوک کا شکار نہ ہوں۔
Facebook Comments