اہم ترین وفاقی وزیر کی چھٹی کا امکان

0 154

لاہو ر(نیوز ڈیسک ) معروف صحافی ہارون الرشید کا بھارت سے جان بچانے والی ادویات درآمد کرنے کی آڑ میں بڑے سکینڈل پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا جان بچانے والی ادویات درآمد کرنے کی آڑ میں ایک بڑا سکینڈل بن چکا ہے۔اور اس سکینڈل میں ایک وفاقی وزیر کی برطرفی کا بھی امکان ہے۔جبکہ اس سیکرٹری کی گرفتاری کے لیے اسے نوٹس دیا جا چکا ہے۔حکومت بغیر سوچے سمجھے فیصلے کرتی ہے اور مانیٹرنگ کا کوئی نظام ادویانہیں ہے۔ہارون رشید نے مزید کہا کہ جب بھارت نے کشمیر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کردیا۔پاکستان نے اصولی فیصلہ کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارت نہیں کی جائے گی۔اور ادویات کی تجارت پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔لیکن اس وقت کسی نے سوچا نہیں کہ کچھ جان بچانے والی دوائی بھارت سے لانا ضروری ہوگی کیونکہ اگر وہ جرمنی اور برطانیہ سے منگوائی جاتی ہیں اس کی قیمت دگنی ہو گی۔جس کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے بھارت سے جان بچانے والی ادویات منگوانے کی اجازت دی گئی۔لیکن اس کے بعد انکشاف ہوا کہ بھارت سے 400 سے زائد ادویات منگوائی جا رہی ہیں جس میں ڈسپرین بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جان بچانے والی ادویات کی آڑ میں بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد کا انکشاف کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں اٴْس وقت ہوا جب بھارت سے مزید 429 ادویات درآمد کرنے کی سمری پیش ہوئی، سمری میں لائف سیونگ اور ملٹی وٹامن ادویات درآمد کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم سمیت کابینہ ارکان نے بھارت سے معمول کی ادویات اور وٹامنز کی درآمد پر سوالات اٹھائے جبکہ کابینہ ارکان نے استفسار کیا کہ بھارت سے درآمد ادویات کونسی ہیں کیا تمام ادویات جان بچانے والی ہیں ۔ نجی ٹی وی کے مطابق کے مطابق کابینہ کے استفسار پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ فہرست کی تیاری میرے علم میں نہیں۔وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو بھارتی ادویات کی درآمد پرحقائق سامنے لانے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بھارت سے لائف سیونگ کے سوا مزید ادویات درآمد کرنے کی سمری مسترد کردی۔

Facebook Comments