پی ای سی کا 15 جولائی تک سکولز بند رکھنے کا فیصلہ مسترد 

0 181
پشاور(سٹی رپورٹر) پرائیویٹ ایجو کیشن کونسل نے وزارت تعلیم کی طرف سے 15 جولائی تک سکولز بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومتی سلوگن کے تحت کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے تحت کاروباری مراکز کھولے گئے جبکہ تعلیمی ادارے تاحال بند رکھے گئے ہیں جو افسوسناک ہے۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنونئیر پرائیویٹ ایجوکیشن کونسل فضل حسین‘ صوبائی صدر ہوپ عقیل رزاق‘ صوبائی صدر اپسما ڈاکٹر ذاکر شاہ‘ صوبائی صدر آئی ٹی ٹی او گل نبی موسیٰ زئی‘ صوبائی صدر پی ایس اے احمد علی درویش‘ ڈپٹی کنونئیر زپی ای سی نور القدوس‘ مشتاق احمد کاکاخیل اور دیگر نے کہا کہ ریاست کے پاس وسائل کی کمی کی وجہ سے نجی تعلیمی شعبہ نے اپنی مدد آپ کے تحت حکومت کی معاونت کی جبکہ بنیادی طور پر تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران لاک ڈاؤن میں تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ آن لائن تعلیم اور ٹی وی کے تعلیم گھر پروگرام قطعاً کار گر ثابت نہیں ہوا ہم تعلیمی میدان میں پہلے ہی پیچھے ہیں کیا تعلیمی اداروں کی طویل بندش کسی عالمی سازش کا شاخسانہ تو نہیں کیونکہ دانشمند قومیں حالت جنگ میں بھی سکول کھلے رکھتی ہیں کورونا سے شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک میں بھی جزوی طور پر تعلیمی ادارے کھولے جا رہے ہیں جبکہ انگلینڈ نے تو یکم جون سے سکولز کھولنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے تو پھر ہمارے بچے تعلیم سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے اور اگر دیگر اداروں کیلئے ایس او پیز بن سکتے ہیں تو تعلیمی ادارے ایس او پیز کے تحت کیوں نہیں کھولے جا سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یکم جون سے مناسب ایس او پیز کے ساتھ سکولز صبح 7 سے 11 بجے کے دوران کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم مجبوراً ایس او پیز کے تحت ادارے کھول لیں گے کیونکہ سکولوں کی بندش سے بچوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
Facebook Comments