افغان بچوں کو غیرقانونی طور پر پاکستان لانے والی مدرسہ انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم

0 71

پشاور: عدالت نے افغان بچوں کو غیر قانونی طور پر پاکستان لانے والی مدرسہ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کرکے کارروائی کا حکم دے دیا۔

نوشہرہ کے مدرسہ میں افغان بچوں کو لانے سے متعلق کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ میں ہوئی، کیس کی سماعت چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ان بچوں کوکیسے یہاں لایا گیا۔  پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ بچوں کو غیر قانونی طور پر افغانستان سے لایا گیا، دو مدرسوں کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا اس وجہ سے بچوں کو یہاں لایا گیا۔

عدالت میں بچوں کی زبان کا مترجم بھی پیش ہوا جس نے بچوں سے سوال جواب کے بعد عدالت کو بتایا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ بچوں کی ذہن سازی کی گئی ہے یہ ہر سوال کا ایک زبان ہوکر جواب دیتے ہیں۔

چیف جسٹس وقار سیٹھ نے ریمارکس دیئے کہ افغانستان سے یہاں بچوں کو لایا گیا اور کسی کو پتہ نہیں، ادارے کیا کررہے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ مدرسہ کے نمائندوں کو گرفتار کرکے ان سے تحقیقات کی جائے کہ ان بچوں کو کیسے اور کیوں یہاں لایا گیا؟، معلوم کریں کہ کتنے اور افغان بچے یہاں پر مدرسوں میں زیر تعلیم ہے اور ان کے پاس یہاں رہنے کے  دستاویز ہے یا نہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ بچوں کو افغان قونصل خانے کے حوالے کیا جائے جو بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے مدرسہ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کرکے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Facebook Comments