اپوزیشن جماعتیں این آر او کی خاطر ملکی سلامتی کو دا پر لگارہی ہے، میاں خلیق الرحمن

0 41

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلی کے مشیر برائے محکمہ خوراک میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے لیڈروں کی کرپشن چھپانے کے لئے ڈرامے کر رہی ہے۔ تمام نے ان اپوزیشن جماعتوں کو مسترد کردیا ہے۔ سٹیج پر گیارہ جماعتوں کے ناکام لیڈروں کا اکٹھ منتخب حکومت کے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر سکتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بار بار کھلے عام یہ اعلان کیا ہے کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں کو این آر او نہیں دیگا۔ عوام کی منتخب حکومت اپنی آئینی مدت ہر حال میں پورا کریگی۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لئے حکومتی ٹیمیں ایمرجنسی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پشاور کے مختلف بازاروں کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خوراک میاں خلیق الرحمن نے سبسڈائزڈ آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مارکیٹ میں دستیابی اور معیار کا جائزہ لینے کے لئے پشاور کے مختلف بازاروں رام پورہ بازار، گنج بازاراور حیات آباد کا دورہ کیا۔ انہوں نے آٹا ڈیلروں کے پاس موجود سبسڈائزڈ آٹے کے معیار کا جائزہ لیا۔انہوں نے آٹا ڈیلروں کے پاس موجود لسٹوں کا معائنہ کیا۔مشیر خوراک میاں خلیق الرحمن نے آٹا ڈیلروں سے آٹے کی ترسیل اور دستیابی کے حوالے سے معلومات حاصل کی۔آٹا ڈیلروں نے اس موقع پر مشیر خوراک سے آٹا کوٹہ میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ جس پر مشیر خوراک نے محکمہ کے متعلقہ حکام کو فوری طور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ مشیر خوراک میاں خلیق الرحمن نے کہا کہ حکومت آٹے کی ترسیل کو باقاعدہ بنانے کے لئے ویلج کونسل سطح پر سبسڈائزڈ آٹا پہنچا رہی ہے۔ جلد ہی پورے صوبے میں ویلج کونسل سطح پر ترسیل کا عمل شروع ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام آٹے کے معیار کے حوالے سے براہ راست محکمہ خوراک کو شکایت کریں۔ غیر معیاری آٹا بنانے والے ملوں کا کوٹہ اور لائسنس معطل کیا جائیگا۔ اور ان پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لئے اضلاع کی سطح پر سستے بازار لگائے جارہے ہیں۔ جہاں عوام کو آٹا اور چینی سمیت دیگر اشیا سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے اور ضرورت کے تحت مذید گندم بھی درآمد کی جارہی ہیں۔اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو خود ساختہ طریقوں سے بڑھانے والے عناصر کو نشان عبرت بنایا جائیگا۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی وہ بازاروں کی سختی سے مانیٹرنگ کریں تاکہ عوام کو اشیا ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب ہو سکیں۔

Facebook Comments