خیبر پختونخوا میں آٹے کا کوئی بحران نہیں،اجمل وزیر

0 94
پشاور (پیام خیبر نیوز) وزیراعلی کے مشیراطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آٹے کا کوئی بحران نہیں،وزیراعظم عمران خان کے خصوصی ہدایات پرپنجاب سے آٹے کی ترسیل جاری ہوچکی ہے،آٹے ودیگر اشیاء کی ذخیر اندوزوں کیساتھ کوئی نرمی نہیں کی جائے گی بلکہ اسے عناصر کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کے احکامات وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے محکمہ خوراک اور صوبے کے تمام ضلعی انتظامیہ کو دے چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز میڈیا کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی کے مشیراطلاعات اجمل وزیر کا کہناتھا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں روزنہ کی بنیاد پر گندم کی ضروریات10ہزارٹن ہے جبکہ محکمہ فوڈ کی جانب سے روزنہ کی بنیاد پر فلورملز کیلئے کوٹہ5ہزار ٹن ہے جو کہ اب 1ہزارٹن بڑھا کر 6ہزار ٹن کیا جا رہا ہے،اس طرح پنجاب سے4ہزار ٹن گندم آٹے کی ترسیل بھی شروع ہوئی ہے، پنجاب سے آٹے کی سپلائی بھی شروع ہوچکی ہے،محکمہ فوڈ خیبر پختونخواکے پاس اس وقت صوبے میں 1لاکھ80ہزارٹن گندم موجود ہے جو کہ یکم مئی2020تک صوبے کی ضروریات کیلئے کافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے50ہزارN95ماسک کراچی سے روانہ ہو چکے ہیں جو رات تک ہمارے پاس پہنچ جائے گا،محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی سامان پر مشتمل ایک کنٹینرز منگوایا گیا ہے جو کہ جلد ہی پہنچانے والا ہے،2ہزار سینٹزرز سول ڈیفنس کے رضاکاروں کے ذریعے عوام میں مفت تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ گزشتہ رات کو محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی سامان پر مشتمل سامان جو کہ پورے صوبے بشمول اضلاع میں بھی تقسیم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن دکانوں اور اسٹورز وغیرہ کو کو کھلنے کی اجازات ہے ان کی تفصیل مندرجہ زیل ہے، ان میں آ ٹی کی چکیاں،سبزی و پھلوں کی دوکانیں،اناج،جانور، پولٹری دکانیں، کرائنہ اسٹورز،گروسی اسٹور، میڈیکل اسٹور،تندور،بیکریز،زراعت کی مد میں بیج،کھاد،کیڑے مار ادویات کے ڈیلرز،سلیور سروسز کے فرنچائرز،رقم وصولی کی سہولیات کے مقامات،خوراک و ادویات بشمول مرغی کے دکانیں،پوسٹل سروسز کے ادارے،کورئرسروسز،ایزی پیسہ اور صنعتی وپیداوری یونٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے ایم یو (خیبر میڈیل یونیورسٹی پشاور) میں کرونا وائر س کے ٹیسٹ کی صلاحیت روزنہ کی بنیاد پر500تک پہنچ چکی ہے،رحمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ (آر ایم آئی)،حیات آبا د میڈیکل کمپلیکس(ایچ ایم سی) پشاور کو کرونا وائرس کا ٹیسٹ کر نے کی اجازات دی گئی ہے جبکہ بنوں،ڈی آئی خان، مانسہرہ ارو ایبٹ آبا دمیں بہت جلد ہی کرونا وائرس کے ٹیسٹ شروع کر نے والے ہیں،ہر ضلع میں (آر آر ایف)فورس قائم ہو چکا ہے،وزیر اعلی کے احکامات پر ٹول فری نمبر1700یا 080001700باہر کے ممالک کے مسافروں کے قائم کیا گیا ہے تاکہ باہر سے آنے والے مسافر ایسی نمبر فری کال کریں تاکہ پہلے ہی سے ان کاکرونا کاٹیسٹ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں 8مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی جس سے صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 188تک پہنچ گئی ہے اسکے علاوہ مشتبہ افراد کی تعداد 894تک پہنچ گئی جو مختلف قرنطین سنٹرز میں زیر علاج ہیں،345افراد کے رزلٹ آنے کا انتظار ہے جبکہ 195افراد کے ٹسٹ نیگٹیو آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان نے ڈیلی ویجرز یا دیہاڑی دار طبقہ،غریب ومتوسط طبقے کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے، اس طرح وفاق نے بھی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کو صحیح طور پر  ڈیلی ویجرز یا دیہاڑی دار طبقہ،غریب ومتوسط طبقے تک پہنچانے کیلئے بھی طریقہ کار بنایا جا رہا ہے،گزشتہ روزچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کاظم نیازکی زیر صدارت کمشنرز اجلاس کا نعقاد کیا گیا۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر بریفننگ دی، اجلاس میں خیبرپختونخوا ریلیف پیکج پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ زراعت، تعمیرات، ہول سیلرز، ٹرانسپورٹ، ہوٹل اور ریسٹورنٹ، مینوفیکچرنگ سیکٹرز متاثر ہونگے،بی آئی ایس پی کے پیسوں میں صوبہ کی طرف سے دو ہزار روپے جمع کر کے فی خاندان پانچ ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے،ریلیف پیکج سے کل 9لاکھ خاندانوں کو فائدہ ہو گا،ریلیف پیکج تین مہینوں کے لیے ہو گا۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ریلیف پیکج میں مستحقین کی شناخت کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے،کمیٹی میں دو سرکاری ممبران جس میں ایک ویلج یا نائبر ہوڈ سیکرٹری دوسرا استاد یا نمبردار ہوگا،دو پرائیویٹ ممبران جس میں ایک ممبر زکو کمیٹی اور دوسرا علاقہ عمائدین سے ہو گا،ضلعی انتظامیہ تین دنوں میں کمیٹی کی نوٹیفیکیشن کرے گی،کمیٹی تین دنوں میں مستحقین کی شناخت کرے گی،دو دنوں کے اندر ڈپٹی کمشنر اور بی آئی ایس پی کے ویب سائٹ پر مستحقین کی معلومات دے دی جائے گی،انہی دو دنوں میں ریونیو آفیسر یا تحصیلدار معلومات کی تصدیق کریں گے،دو دنوں میں ڈیٹاکی تصدیق بھی ہو جائے گی،ایک دن بعد پی ایم آر یو ڈیٹا واپس ڈپٹی کمشنرز کو بھیج دے گا،اس طرح یہ پورا پراسس 10سے 13دنوں میں مکمل ہو گا،ریلیف پیکج صرف ڈیلی ویجرز یا دیہاڑی دار طبقہ کے گھر کے سربراہان کو ملے گا،ریلیف پیکج مذکورہ بالا متاثر ہونے والے سیکٹرز کے دیہاڑی دار یا ڈیلی ویجرز طبقہ کو ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک قوم کی شکل میں کورنا جیسی وباء کا مقابلہ کرنا ہو گا،اختیاطی تدابیر پر عوام کو مزید فوکس کر نا ہو گا،افراتفری اور ڈرنا نہیں ہو گا،اب تک عوام ودیگر سے کرونا کے حوالے سے اختیا طی تدابیر اختیار کر نے میں مثبت ردعمل آیا ہے،میں اختیا طی تدابیر اختیار کر نے پر عوام،تاجر برادری، علماء کرام،طلبہ،سول سوسائٹی،پاک فوج،ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس ودیگر مختلف مکاتب فکر کو خراج تحسین پیش کر تاہوں۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت ضلعی ہسپتالوں میں تمام ضروری آلات فراہم کر رہے ہیں۔ہیلتھ ورکرز، پولیس اور فرنٹ لائن پر موجود تمام عملے کیلئے حفاظتی انتظامات کر لیے گئے ہیں،حفاظتی پابندیوں کا اب تک اچھا رزلٹ آ رہا ہے۔
Facebook Comments