نریندر مودی کے حکومت میں گاندھی کا تصور رخصت ہوتا نظر آرہا ہے،کرسٹوفرہولن

0 161

ہیوسٹن(آئی این پی) امریکی سنیٹر کرسٹوفر وین ہولن نے کہا ہے کہ دنیا کی ایک بڑی جمہوریت قرار دئے جانے والے سیکولر بھارت میں آج نریندر مودی کے دور حکومت میں گاندھی کا تصور رخصت ہوتا نظر آرہا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ بھارت کے موقع پر ایک حصے میں مودی سے مل رہے تھے تو دوسرے حصے میں دلی کے اندر مسلمانوں پر مسلح حملے ہو رہے تھے جس سے اس بات کو تقویت ملی کہ بھارت سے گاندھی کا ویژن رخصت ہورہا ہے۔ہیوسٹن میں ممتاز پاکستانی امریکن ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید کی جانب سے اپنے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں منعقدہ فنڈ ریزنگ سے خطاب کرتے ہوئے سنیٹر کرسٹوفر کا کہنا تھا کہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش سے بھارت کو آگاہ کرنے کیلے سیکریٹری آف اسٹیٹ پومپیو کو خط لکھا تھا تاکہ اصل حقائق پر مبنی رپورٹ مل سکے، سیکریٹری اسٹیٹ کے جواب کا انتظار ہے جس کے بعد ہم خیال سینٹرز کے باہمی مشورے سے بھارت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے کے حوالے سے محتاط مگر پرامید ہیں تاہم اس پیش رفت سے ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم افغانستان خصوصا پاکستان کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فری ٹریڈ زون کے قیام سے متعلق اس بل پردوبارہ پیش رفت کرسکیں جو ماضی میں سینٹ نے منظور نہیں کیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں طاہر جاوید کے تعاون سے ہونے والا پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب تھاجبکہ بھارت نے اس کے برعکس ہمیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی تاہم اب بھی اصل حقائق سے آگاہی کیلے کشمیر کا دورہ ضروری ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس اور سینیٹ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ کا دور نارمل نہیں ہے،وہ امریکی اقدار کیلے خطرہ ہیں، جب آپ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کریں گے تو کیسے آپ دوسرے ممالک پر انگلی اٹھا سکتے ہیں۔اس موقع پر میزبان طاہر جاوید نے خطاب کرتے ہوئیمسئلہ کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک اور جرات مندانہ موقف اختیار کرنے پر سنیٹر کرسٹوفر کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب سے ڈاکٹر حیدر افضل،سیاسی تجزیہ نگار مصطفی تمیز اور نومی حسن نے بھی خطاب کیا۔

Facebook Comments