14 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے پر والدہ، بھائی اور ماموں کو سزا

0 90
پشاور (یواین پی) عدالت نے 14 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے پر والدہ، بھائی اور ماموں کو سزا سنا دی، والدہ کو 20 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، بھائی کو 20 سال جبکہ ماموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے 14 سالہ لڑکی کی والدہ پر جسم فروشی پر اکسانے اور دباؤ ڈالنے پر 20 سال قید اور ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔سزا جج وحیدہ مشتاق ملک کی جانب سے سنائی گئی۔ اس حوالے سے جج کا کہنا تھا کہ پروسیکیوشن ملزمان، لڑکی کے ماموں مزمل، بھائی فضل اور والدہ بیگمہ پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ پروسیکیوشن کی جانب سے دونوں مرد ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 276 اور خاتون ملزمہ پر دفعہ 371 اے  کے تحت مقدمات دائر کیے گئے تھے۔عدالت کی جانب سے مذکورہ لڑکی کے ماموں مزمل کو پی پی سی کی دفعہ 376 کے تحت عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔اسکے علاوہ لڑکی کے بھائی فضل کو اپنی بہن کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر پی پی سی کی دفعہ 337 بی کے تحت 20 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے گھر پہنچے تو ایک 14 سالہ لڑکی نے بتایا کہ اسکو اور اسکی چھوٹی بہن کو اسکی ماں جسم فروشی کے لیے اکسا رہی ہے۔ لڑکی کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ اسکے بھائی اور ماموں نے اسکا ریپ کیا ہے۔دوران تفتیش لڑکی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب وہ 5 یا 6 سال کی تھی تو اسکی ماں اسے جسم فروشی کے ایک اڈے پر لے گئیں جہاں جنسی حملے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔ دوسری جانب وکیل نے لڑکی کے اس موقف کو درکرتے ہوئے کہا ہے کہ جس لڑکی نے یہ الزامات عائد کیے ہیں وہ خود بھی ریپ کا شکار ہوئی ہے اس لے اسکے بیانات میں تضاد ہے اور اسکو عدالت میں پیش نہیں کیا سکتا۔ اس کے علاوہ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکی اور اس کی بہن کی میڈیکل رپورٹ میں الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
Facebook Comments