چائلڈ پورنو گرافی کے ملزم کے خلاف بڑا حُکم جاری

0 157

لاہور(نیوز ڈیسک ) چائلڈ پورنوگرافی کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے جس کے بعد مجرم کی سزا کیخلاف اپیل خارج کر دی گئی ہے اور مجرم سعادت امین 7 سال کی سزا پوری کرے گا۔

عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کی ضمانت کا فیصلہ بھی موثر ہو گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے کچھ دن قبل مجرم سعادت امین کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا معطل کر دی تھی جس کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایف آئی اے حکام کو طلب کر لیا گیا تھا۔ان تمام معاملات کے بعد آج مرکزی اپیل کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ہے جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پیش ہو کر بتایا ہے کہ مجرم سعادت امین کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں جو کہ عدالت میں پیش کروا دیئے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے ضمانت کے عوض مجرم کو 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔جسٹس فاروق حیدر نے مجرم سعادت امین کی سزامعطلی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔اس کے علاوہ سعادت امین نامی ملزم کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے 2017 میں پنجاب کے شہر سرگودھا سے گرفتار کیا تھا اور 2018 میں لاہور کی سائبر کرائمز سے متعلق عدالت نے اسے 7 برس قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،گزشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل رانا ندیم احمد ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ چائلڈ پونی گرافی کا جرم پاکستان میں سرزد نہیں ہوا۔

جبکہ مدعی ناروے کا شہری ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سائبر کرائم کورٹ نے ملزم سعادت حسن عرف انکل منٹو کو 26 اپریل2018 ء کوسات سال قید کی سزا سنائی۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ سائبر کرائم کورٹ نے ملزم کو سیکشن بیس اور اکیس کے تحت بری اور سیکشن 22 کے تحت سزا سنائی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوآگاہ کیا کہ ملزم دوسال سے زائد عرصہ سے جیل میں ہے۔

تاہم اس سماعت کے بعد مجرم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا لیکن آج اس کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے جس کے بعد مجرم کی سزا کیخلاف اپیل خارج کر دی گئی ہے اور مجرم سعادت امین 7 سال کی سزا پوری کرے گا۔ عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کی ضمانت کا فیصلہ بھی موثر ہو گیا ہے

Facebook Comments