کینوخوش نما ،خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل حسن کے نکھار کا بہترین ذریعہ

0 76

کینو کھٹے پھلوں میں سب سے مفید ترین پھل ہے۔ یہ صحت بخش غذائی اجزاء سے بھر پور پھل ہے اور حیاتین ج (وٹامن سی)کے حصول کا سب سے اہم اور آسان ذریعہ ہے۔ کینو بہت جلد ہضم ہو جانے والا پھل ہے۔اسے کھانے سے معدے کی تیزابیت دور ہو جاتی ہے اور بھوک خوب لگتی ہے۔یہ چونکہ حیاتین ج سے مالا مال ہوتاہے، اس لئے اسے کھانے سے جسم میں قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔حساسیت (الرجی)اور امراض قلب سے بچانے میں یہ اہم کردار ادا کرتاہے۔ اس سے دل کو تقویت ملتی ہے۔ کینو کھانے سے مسوڑے بھی صحت مند رہتے ہیں۔ یہ کھانسی،سل ودق(ٹی بی)، نمونیے اور ہائی بلڈ پریشر میں بھی فائدہ دیتا ہے۔ جن لڑکے اور لڑکیوں کے چہروں پر کیل اور مہاسے نکلتے ہوں،انھیں سردیوں میں روزانہ کینو کھانے چاہییں،اس لئے کہ یہ خون صاف کرتا ہے اور خون میں پیدا ہونے والے امراض سے بھی نجات دلاتاہے۔یہ خوش نما ،خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل حسن کے نکھار کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔
کینو میں گلوکوس اور کیلسیئم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے،اس لئے یہ کمزور مریضوں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔ معدے اور آنتوں کی خراش،سینے کی جلن،متلی اور بار بار قے آنے کی کیفیت میں کینو کی چند پھانکیں چوس لینے سے بہت افاقہ ہوتاہے ۔کینو میں پایا جانے والا پانی جگر اور گردوں کے لئے بہت مفید ہے۔اگر دانتوں کے امراض کے سبب مسوڑے زرد یا کمزور ہو جائیں یا اُن سے خون خارج ہوتا ہوتو روزانہ کینو کھانے سے یہ تمام تکالیف ختم ہو جاتی ہیں۔ کینو کھانے سے بعض افراد کا گلا خراب ہو جاتاہے، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ کینو نمک اور کالی مرچ کے ساتھ کھائیں،ان کا گلا خراب نہیں ہو گا، البتہ رات کے وقت کینو کھانے سے پرہیز کریں۔ کینو کے رس میں شہد ملا کر پینے سے گلے میں خراش نہیں پڑتی۔سردی کے موسم میں روزانہ کھانا کھانے کے بعد کینو کھانے سے خون بڑھتاہے اور رنگ بھی سرخ وسفید ہو جاتاہے۔ اس میں موجود حیاتین ج نشاستے (کاربوہائیڈریٹ) والی غذاؤں کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے ،جس کی وجہ سے صحت اچھی رہتی ہے۔ کینو میں ریشہ ہوتاہے، جس سے ہاضمہ درست رہتا ہے اور قبض بھی نہیں ہوتا۔
کینو خریدتے وقت ہمیشہ ایسے کینوؤں کا انتخاب کریں، جو دیکھنے میں گہرے سرخ ،چمک دار اور موٹے چھلکوں والے ہوں، ایسے کینو میٹھے اور بہت ذائقے دار ہوتے ہیں، جب کہ پتلے چھلکوں والے کینو کھٹے اور بے ذائقہ ہوتے ہیں۔کینو کے چھلکے ضائع نہ کریں، یہ بھی کام میں لائے جا سکتے ہیں۔چھلکوں کو پیس کر چہرے پر لیپ کرنے سے جلد صاف وشفاف، تروتازہ اور نرم وملائم ہو جاتی ہے اور چہرے کا رنگ بھی خوب نکھر جاتاہے۔ اگر داغ دھبوں اور کیل مہاسوں نے چہرے کی رعنائی وخوب صورتی کو ختم کر دیا ہوتو روزانہ ایک دو کینو ضرور کھائیں۔ اس کے علاوہ کینو کے چھلکے پیس کر اُن کی لگدی(پیسٹ) بنا کر اُس میں تھوڑا سا بیسن ،ہلدی اور عرق گلاب ملا کر چہرے پر لگائیں، چند دنوں میں آپ کا چہرہ بے داغ ودل کش نظر آئے گا۔
کینو کے رس کو کیک، بسکٹ اور مختلف کریموں میں اُن کے ذائقے میں اضافہ کرنے کے لئے شامل کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ کینو کی تازہ اور باریک کٹی ہوئی پھانکوں کو کریم کیک اور جوس کے گلاسوں پر سجاوٹ کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔ اس کے چھلکوں سے مارملیڈ (MARMALADE) بھی بنایا جاتاہے۔ کینو کے چھلکوں کو کتر کے اس کا شیرہ بنا کر اُس میں لیموں کا عرق ملا کر گاڑھا قوام تیار کر لیا جاتاہے، یہی مارملیڈ کہلاتاہے۔یہ صبح کے ناشتے میں توس پر لگا کر کھایا جاتاہے، بہت ذائقے دار ہوتاہے۔ بچے اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ کینو کا گودا، رس اور اس کے خوش رنگ چھلکے مختلف ڈشوں میں شامل کیے جاتے ہیں، جس سے اُن کے مزے اور لذت میں اضافہ ہوجاتاہے۔
کینو میں حیاتین الف (وٹامن اے)، رائبو فلاون (=RIBOFLAVINحیاتین ب 2)، نایاسن (=NIACINحیاتین ب 3) ، لحمیات(پروٹینز)،پانی ،حرارے(کیلوریز)،نشاستہ،فولاد اور فاسفورس جیسے اہم وصحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں،جن سے صحت پر بہت اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ کینو کا موسم ختم ہونے سے پہلے ہمیں روزانہ کینو کھا کر اس سے خوب فائدے حاصل کر لینے چاہییں۔

Facebook Comments