جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا؛اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب 

0 167
جنیوا(یواین پی) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر عالمی براداری کی مداخلت کی درخواست کے بعد بھارتی سفارتکار نے کہا کہ’ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔’سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 43 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) وکاس سوارپ نے پاکستان کو عالمی شدت پسندی کا مرکز بتایا۔انہوں نے شدت پسندوں کو براہ راست، کنٹرو ل، فنڈ اور پناہ دینے والی ریاستوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کی ایک واضح مثال ہے۔ان کا یہ تبصرہ پاکستانی انسانی حقوق کی وزیر شیرین مزاری کی جانب میں اجلاس میں ان باتوں کے بعد آیا جب انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بھارت کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے اور گذشتہ سال 5 اگست کو بھارت کی جانب سے تمام اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشن کے چیئرمین بیرسٹر عبدالمجید ترمبو کی سربراہی میں امریکی اقلیتوں کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کا کشمیر میں انسانی حقوق کے بارے میں اجلاس جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں شروع ہوا۔جس میں عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر فاتو بنسوداپر زوردیا گیا کہ وہ ’سٹیچو آف روم‘کی دفعہ 6اور7کے تحت بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں نسل کشی  کی باضابطہ تحقیقات کروائیں۔  ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ’سٹیچو آف روم‘وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔  یہ اٹلی کے شہر روم، میں ایک سفارتی کانفرنس میں 17 جولائی 1998 کو اپنایا گیا تھا اور یہ یکم جولائی 2002 کو عمل میں آیا۔ نومبر 2019 تک، 123 ریاستیں اس کی رکن ہیں۔انسانی حقوق کی وفاقی وزیرڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
Facebook Comments