جماعت اسلامی نےپشاور منصوبے کیخلاف بڑے اقدام کا اعلان کردیا

0 158

پشاور:امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ بی آر ٹی میگا کرپشن نہیں میگا ہڑپشن کا منصوبہ ہے، بی آر ٹی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں، بی آر ٹی کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، پشاور کے کاروبار کو 200ارب کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی شدید نقصان پہنچا، بی آر ٹی منصوبہ پشاور کے ثقافتی چہرہ مسخ کردیا ہے۔ جماعت اسلامی 12اپریل کو بی آر ٹی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرے گی، اے پی سی میںاحتجاج کا طریقہ کار طے کرینگے، بی آر ٹی پشاور کے شہریوں کے لئے دیوار برلن بن گیا ہے، بی آر ٹی نے پشاور شہر کو دو حصوں میں تقسیم کیا،بی آر ٹی کے باعث 25 ہزار درخت اور پودے اکھاڑے گئے جس سے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، چھ ماہ میں مکمل ہونے والا منصوبہ سترہ ماہ میں بھی مکمل نہ ہوسکا، ماہرین کے مطابق بی آر ٹی کے لئے نقشہ گوگل کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ بی آر ٹی کی گرد، ٹریفک جام اور شور کے باعث پولیس، ٹریفک اہلکار، کاروباری طبقہ اور شہریوں میں نفسیاتی بیماریاں پیدا ہوگئی ہیں، بی آر ٹی منصوبے سے قبل پشاور کی اپ لفٹ اور بیوٹیفیکیشن پر 6ارب روپے خرچ کئے گئے جو اس منصوبے کی وجہ سے ضائع ہوگئے۔ٹائم فریم میں 300فیصد اور اخراجات میں38 فیصد کے اضافے کے بعد ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے مزید قرض دینے سے انکار کیا ، آج خیبرپختونخوا کے 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کا قد نہیں بڑھ رہا اور ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما نہیں ہورہی، حکومت کی اپنی انسپیکشن ٹیم نے منصوبے میں 7ارب روپے کی کرپشن کا اعتراف کیا ہے۔ بی آر ٹی کے انتہائی ناقص اور غیر پیشہ وارانہ ڈیزائن کی وجہ سے شہریوں کی پرائیویسی شدید متاثر ہوگئی ہے اور بی آر ٹی کو استعمال کرنے کے امکانات کم سے کم ہوگئے ہیں۔ نیب بی آر ٹی کے حوالے سےصوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بی آر ٹی پر از خو نوٹس لیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المر کز الاسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرت ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل عبدالواسع ، سیکرٹری اطلاعات سید جماعت علی شاہ ، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان، ضلع پشاور کے سیکرٹری جنرل کفایت احمد اورضلعی نائب امیر حافظ حشمت خان بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ بی آر ٹی کے لئے بنائی گئی حکومتی انسپیکشن ٹیم نے منصوبے میں 7ارب روپے کے کک بیکس لئے جانے کا انکشاف اور اعتراف کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی رپورٹ پر خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی وہاں وہاں ہے جہاں جہاں کاروبار تھا۔ بی آر ٹی کی وجہ سے سرمایہ پشاور سے باہر جارہا ہے۔ پشاور کا ثقافتی ورثہ بی آر ٹی کے ہاتھوں تباہ ہوا۔انہوں نے کہا کہبی آر ٹی منصوبہ کابینہ کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا اور کابینہ کے سامنے پانچ ماہ کے بعد منصوبہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں بی آر ٹی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین نے اور جماعت اسلامی نے حکومت کو یہ باور کرایا تھا کہ بی آر ٹی منصوبہ شروع کرنے کی بجائے رنگ روڈ کو مکمل کیا جائے، پشاور کے اندر ریلوے ٹریک کو بحال کیا جائے اور اسے توسیع دیں تاکہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک کے رش کو کم کیا جاسکے لیکن حکومت نے کرپشن کے لئے ہماری بات نہیں مانی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کہا کرتی تھی کہ میٹرو بنانے کی بجائے انسانوں پر انویسٹمنٹ کی جائے لیکن خود پشاور میں انسانوں پر پیسہ لگانے کی بجائے سیمنٹ اور سریہ پر پیسہ لگادیا۔ صوبے میں صاف پانی ، صحت کی سہولیات سمیت دیگر ضروریات ناپید ہیں لیکن پشاور میں ایک پراجیکٹ پر 80ارب روپے سے زائد اڑادئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آل پارٹیز کانفرنس میں پشاور کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بی آر ٹی منصوبے پر حکومت کے خلاف متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

Facebook Comments