مستحکم ہونے میں مزید ڈیڑھ سال لگے گا ،اسدعمر کا پھر دعویٰ

0 138

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ لوگ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں بعد میں کوئی گلا نہ کرے، ماضی میں روپے کو مصنوعی استحکام دے کر معیشت کا برا حال کیا گیا، آئی ایم ایف سے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، معیشت آئی سی یو سے نکل آئی مگر اسے مستحکم ہونے میں مزید ڈیڑھ سال لگے گا ۔جمہوری نظام میں پارلیمان کااہم کردارہے،جمہوریت سے متعلق بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا، صرف الیکشن کیلئے فیصلوں سے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، دیرینہ مسائل کے باعث تنزلی تھی، بدقسمتی سے ہم دیکھتے رہے اب کونسا ملک ہم سے آگے جائے گا، پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرتا جس سے زرمبادلہ بڑھے، ہمیں خراب معیشت ورثے میں ملی، ہم سود ادا کرنے کیلئے قرض لے رہے ہیں، 800 ارب سے زیادہ قرض سود ادائیگی کے لئے ہے۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی مشاورتی کونسل نے یہ فریم ورک تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اس پر عالمی بینک، اے ڈی بی و دیگر ترقیاتی پارٹنرز کا ان پٹ لیا گیا، اس فریم ورک میں اسٹریٹجی ہے تاہم اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، آئی ایم ایف سے جو اعداد و شمار فائنل ہوں گے وہ فرم ورک میں شامل کیے جائیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اگست2018 کو جو فیصلے کرنا تھے وہ بروقت نہیں ہوسکے تاہم آئی سی یو میں پڑے معیشت کے مریض کو وارڈ میں شفٹ کیا، یہاں جمہوریت کی باتیں بڑی ہوتی ہیں مگر عمل نظر نہیں آتا، موجودہ حکومت حقیقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ وسط مدتی اکنامک فریم ورک کا مسودہ آج دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیوں کو بھجوادیا جائے گا، کمیٹیوں کے ان پٹ کے بعد اسے فائنل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی دلچسپی کی چیز روزگار، مہنگائی اور بہتر مستقبل ہے، مگر ان مسائل کو حل کرنا ایک تکنیکی طریقہ کار ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں آئی سی یو میں جو مریض ملا اس کی جان بچانا تھی، اس مریض کی جان بچانے کے لیے جو بڑے فیصلے درکار تھے وہ کیے۔قوم نے دیکھا کہ مریض آئی سی یو سے نکلا، بحران سے نکل آئے ہیں اور اب استحکام کا مرحلہ چل رہا ہے یہ ایک سے ڈیڑھ سال چلے گا، اب معیشت کو استحکام دینا ہے اس کے لیے فیصلے کررہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بحران کی وجہ سے وسائل کی مٹھی دھیرے دھیرے کھول رہے تھے، جب استحکام کے مرحلے سے نکلیں گے تو وسائل کی مٹھی بھی کھولیں گے، اس وقت حکومت کو حکومت چلانے اور دفاع و ترقی کے لیے درکار ریونیو تو دور کی بات سود ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ہم سود ادا کرنے کے لیے فنانسنگ کا انتظام کررہے ہیں، دوست ممالک کے پاس جاتے ہیں اور قرضے مانگتے ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ ترقی میں تمام ممالک آگے نکل گئے ہیں اب بنگلہ دیش بھی آگے نکل گیا، افریقا کے بہت سے ممالک بھی ترقی کی رفتار میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کی برآمدات ملکی معیشت کا 15 فیصد ہے جو کہ ہم سے دوگنا زیادہ ہے، بھارت اڑھائی گنا اور ترکی کی برآمدات تین گنا پاکستان سے زیادہ ہیں، پاکستان کے مقابلے میں بھارت، ویت نام، چین و دیگر ممالک میں بچت کی شرح 30 فیصد اور اس سے بھی زیادہ ہے۔

Facebook Comments