ناقابل تلافی نقصان نے انسانوں کو تو ایک بار پھر جھنجوڑ کے رکھ دیا

0 128
تحریر: اقراء لیاقت علی 
گذشتہ روز ایک قومی ایئر لائن کے المناک انسان سوز واقعہ اور ناقابل تلافی نقصان نے انسانوں کو تو ایک بار پھر جھنجوڑ کے رکھ دیا، اور روایتی باتیں سن کے دل خون کے آنسو رو رہا ھے۔
ایک پرائویٹ پائیلٹ سے بات چیت کے بعد کچھ معلومات اکھٹی کرکے کوشش کی ہے کہ عام قارئین کو بات سمجھ آ جائے اِسی لیے زیادہ ٹیکنیکل زبان سے پرہیز کِیا ہے ۔
معلوم نہیں کہ جب طیارہ لاہور سے کراچی پرواز کے لیے روانہ ہُوا تو اُس وقت اُس کے دونوں انجن ٹھیک حالت میں تھے یا ایک انجن ہی کام کر رہا تھا ۔ لینڈنگ گیئر کی کیا پوزیشن تھی کیا وُہ تکنیکی طور پر بالکل ٹھیک تھا ؟ عُموماً یہ ممکن نہیں ہوتا کہ دورانِ پرواز کِسی طیارے کے دونوں انجن بیک وقت یا تھوڑے وقفے کے بعد فیل ہو جائیں ۔ آج گِرنے والا طیارہ بھی دو انجن والا تھا لیکن ایسا نہیں ہے کہ کبھی طیارے کے دونوں انجن فیل نہ ہُوئے ہوں بہرحال اُس کی وجہ ہوتی ہے جیسے امریکن پائلٹ C.B.Sully کے کمرشل طیارے کی پرواز کے کُچھ لمحات بعد ہی پرندوں کے ٹکرانے سے دونوں انجن فیل ہوگئے اور اُس نے ایمرجینسی میں طیارے کو گلائیڈ کرتے ہُوئے دریائے ہڈسن میں اُتار دِیا اور تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے۔ایسی چند مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں لیکن بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بغیر انجن اور پاور کے بھی گلائیڈنگ اور لینڈنگ ممکن ہے ۔
ابھی یہ معلوم نہیں کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر پُوری طرح کُھل پا رہے تھے یا اُدھورے کُھل رہے تھے ۔ لینڈنگ کے لیے جہاز کے لینڈنگ گیئر پُوری طرح کُھلے ہونے چاہئیے ۔ یہاں ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دونوں انجن فیل ہیں ، لینڈنگ گیئر پُوری طرح کُھل نہیں رہا تو اب پائلٹ کو کیا کرنا چاہئیے ؟
پائلٹ کو مُناسب حالات میں اگر ممکن ہو تو طیارے کو ایک دو ٹرن اراؤنڈ چکر لگوانا بہتر رہتا ہے تا کہ اگر سسٹم کی کمانڈ میں کوئی مسئلہ آ رہا ہے یا سائیڈ ایرر ہے تو وُہ دُور ہوجائے اور لینڈنگ گیئر کُھل سکیں لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب جہاز کے دونوں یا ایک انجن کام کر رہا ہو ، آپ کے جہاز کے پاس تھرسٹ ہو یا پھر آپ کی رن وے اپروچ پر پرواز کی بُلندی تین سے چار ہزار فیٹ ہو ۔گذشتہ روز کراچی میں ہونے والے پی آئی اے کے طیارہ حادثے میں بُہت ساری چہ مگوئیاں جاری ہیں اور ظاہر ہے پاکستان میں ایئر بلیو حادثہ ہو ، بھوجا ایئر لائین حادثہ ہو یا جُنید جمشید طیارے کا سانحہ ہو کبھی بھی مکمل تحقیقات سامنے نہیں آئی ہیں خیر اس بات کو اِدھر روکتا ہُوں پہلے اپنی بات پُوری کر لُوں ۔اچھا طیارے کے دونوں انجن فیل ہوگئے ، لینڈنگ گیئر مکمل نہیں کُھل رہا تھا اسی لیے پائلٹ نے طیارے کو چکر لگوانے کا فیصلہ کِیا ۔لوگ مُجھ ناچیز پر ہنسیں گے لیکن یہ ایک نہایت ہی جلدبازی کا فیصلہ تھا میں اِس کو بے وقوفانہ فیصلہ نہیں کہتا کہ پائلٹ کی کوشش رہی ہوگی کہ لینڈنگ گیئر مکمل کُھل جائے تا کہ سیف لینڈنگ ممکن ہو سکے ۔گلائیڈنگ کا حساب کِتاب کیا ہے ؟ تھرسٹ کے ختم ہونے کے بعد طیارے کی پرواز کی بُلندی ، آگے کا سفر اور نیچے گِرنے کا تناسب کیا ہے ؟ یہ تناسب 10:1 ہے یعنی بالفرض اگر طیارہ چھتیس ہزار فیٹ کی بُلندی پر ہو اور اُس کے دونوں انجن فیل ہو جائیں تو کیا خیال ہے کیا ہوگا ؟ طیارہ کِسی وزنی پتھر کی طرح زمین پر نہیں آن گِرے گا بلکہ ہر ایک میل نیچے آنے یعنی پرواز کی بُلندی کم ہونے پر وُہ سترہ میل 17 miles آگے فاصلہ طے کرسکے گا ۔اب چھتیس ہزار فیٹ تقریباً 7 میل بنتے ہیں تو اِس صُورت میں طیارہ 70 میل تک آگے فاصلہ طے کرسکتا ہے اور کسی قریبی ایئر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرسکتا ہے ۔مذکورہ طیارہ ایئر پورٹ کے قریب پُہنچ چُکا تھا جس کی بُلندی ہزار فیٹ سے لے کر دو ہزار فیٹ تک عُموماً ہوتی ہے یعنی یہاں سے دوہزار فیٹ کی بُلندی ہونے کی صُورت میں طیارہ زمین سے0.3787 میل اُونچائی پر تھا اور اس کی آگے گلائیڈنگ 3.787 میل یعنی چار میل کے قریب کم از کم بنتی ہے ۔ جبکہ ہزار فیٹ کی بُلندی کی صُورت میں طیارہ 1.8935 میل یعنی دو میل کے لگ بھگ آگے فاصلہ طے کرسکتا تھا زمین کو چُھو نے سے قبل ۔یہاں یہ بات یاد رہے یہ ایک عُمومی فارمولا ہے جو بعض حالات میں ایک آدھ فیصد کم یا چند فیصد زیادہ بھی ممکن ہے ، ایکسیپشنز آر آلویز دیئر ۔جی جناب دونوں انجن فیل ہیں ، وقت کم ہے مزید ہائیٹ آپ لے نہیں سکتے تو طیارے کو ٹرن اراؤنڈ کروانا ایک مُہلک اور غلط فیصلہ ہے ۔ آپ کو چاہئیے کہ ایئر پورٹ کے رن وے پر بیلی لینڈنگ کروانے کا مُشکل لیکن ناگُزیر فیصلہ لیں ۔یہ ایک مُشکل لیکن آخری حل ہے ۔یہ اِتنا زیادہ خطرناک نہیں جِتنا سُننے میں لگتا ہے ۔ ممکن ہے رگڑ کی وجہ سے طیارے میں آگ لگ جائے لیکن ایئر پورٹس پر فائیر بریگیڈ کا عملہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہوتا ہے ۔ مُجھے قوی یقین ہے کہ تمام مُسافر بشمول عملہ بچ جاتے یا شاید چند افراد اپنی جان سے جاتے لیکن یہی آخری حل تھا ۔
جناب اِس پوسٹ میں اِس سے زیادہ تکنیکی باتیں لِکھنا بے وقوفی ہوگی لیکن سوالات کُچھ اور بھی ہیں ۔ایئر بھوجا طیارہ ،ایئر بلیو طیارہ اور جُنید جمشید والا طیارہ کیوں گِرے ؟ آخرالذکر طیارہ ایک انجن پر اُڑایا گیا کہ چھوٹی فلائیٹ ہے ( پنڈی ) اسلام آباد پُہنچ جائے گا لیکن جو ہُوا سب کے سامنے ہے ۔کاک پُل پنڈی گرنے والا بھوجا ایئر لائین کا طیارہ اُڑنے کے قابل ہی نہیں تھا جس کو زبردستی کُچھ دے دِلا کر فِٹنس سرٹیفیکیٹ اور اجازت نامہ دلوایا گیا ۔ایئر بلیو کا مُجھے معلوم نہیں ۔اِن تمام حالیہ برسوں میں ہونے والے حادثات کا ذمہ دار کون ہے ؟ کیا اُن کو محض سزائیں دینا ،معطل کرنا یا نوکری سے برخاست کردینا کافی ہے یا اُن پر باقاعدہمقدمات چلنے چاہئیے تھے ؟ کیا مرنے والے جو عید کی خُوشیاں اپنے پیاروں کے ساتھ منانے آ رہے تھے اُن کے لیے “ اللہ پاک مغفرت کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔ پھر آمین “ کہہ دینا کافی ہے یا اُن کو اِنصاف بھی مِلنا چاہئیے ؟ یا اُن کو شہید کہہ کر فائلیں بند کردیں ؟
تحقیقات کبھی پبلک تو کریں تاکہ ہمارے جیسے جُہلا کو بھی تو معلوم ہو کہ چل کیا رہا ہے ؟ آپ کو معلوم ہے یا نہیں لیکن جاتے جاتے ایک انوکھی بات بتاتا ہُوں ؛ ایک پی آئی اے کا طیارہ تھا جو کسی یورپی مُلک پُہنچا تو چیکنگ پر معلوم پڑا کہ انجن کو فیول دینے والے پائپ پر کِلپ کی جگہ تانبے کی تار کو بَل دے کر اُس کو انجیکٹر سے جوڑا گیا تھا یعنی اِتنی لمبی فلائیٹ کو ٹیکنیکل گراؤنڈ سٹاف نے  “جُگاڑ“ لگا کر بھیج دِیا ۔ وُہ طیارہ وہاں ہولڈ کر لِیا گیا ، پی آئی اے کو باقاعدہ لمبا چوڑا جُرمانہ بھی کِیا گیا ۔ دِل میں شدید دُکھ ہے ،ایسا لگتا ہے جیسے میرا کوئی سگا عزیز اِس حادثے میں چلا گیا ہو ، میں یہ پوسٹ نہیں لِکھنا چاہ رہی تھی لیکن آج نہ لکھتی تو کل تک ہماری قوم کو کوئی نیا “ شغل “ مِل چُکا ہوتا ۔ میرا حکومت سے سوال ہے کہ پی آئی اے جیسے سفید ہاتھی کو کب تک پالیں گے ؟ اگر پرائیوٹائیز نہیں کرنا تو عملہ کب کم کرو گے ؟ دُنیا میں فی جہازوں کا سب سے زیادہ عملہ پی آئی اے کا ہے ۔بھائی کوئی تو جواب دو ، ریاستِ مدینہ کے والی حکومت  آپ ہی بتاؤ کب اِنصاف ہوگا۔۔؟
آج کے لیے اِتنا ہی ۔ اپنا خیال رکھیں ،
 اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصِر ھو۔
Facebook Comments