خیبرپختونخوااسمبلی میں ضمنی بجٹ پوزیشن جماعتوں نے عمومی بحث مکمل

0 109

پشاور (جنرل رپورٹر)خیبرپختونخوااسمبلی میں ضمنی بجٹ برائے مالی سال2019-20بشمول لازمی اخراجات پراپوزیشن جماعتوں نے عمومی بحث مکمل کرلی جمعہ کے روز بجٹ پربحث کاآغاز کرتے ہوئے پی پی کی نگہت اورکزئی نے کہاکہ آئی ٹی کے شعبے کیلئے ضمنی بجٹ میں تین کروڑ16لاکھ10ہزارکاذکر ہے جس میں اساتذہ کیلئے ٹیبلٹ لینے کی سکیم زیرغورہے لیکن طلبہ کیاکرینگے آیااساتذہ کواس بارے تربیت دی جائیگی یاپھراس سکیم میں گھپلاہوگا آن لائن کلاسزمیں طلبہ کو انٹرنیٹ کامسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ جیلوں میں ملازمین کی ڈیوٹیوں کابڑامسئلہ ہے اسے مستقل حل کیاجائے خیبرپختونخوامیں فرانزک لیب ہونی چاہئے یہاں کے نمونے لاہورلیبارٹری جاتے ہیں جن کا نتیجہ دوماہ بعدموصول ہوتاہے پولیس میں عابد،کالام خان،صفعت غیور،ملک سعید،خان رازق جیسے نڈرلوگوں نے قربانیاں دی ہیں اس فورس میں یقیناکالی بھیڑیاں بھی ہونگی پولیس اہلکار15,15گھنٹے ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں انکی تنخواہیں پنجاب صوبہ کے طرز پر بڑھائی جائیں انہوں نے بی آرٹی کی مدت تکمیل اورلاگت میں اضافے پرتنقید کرتے ہوئے کہاکہ منصوبے میں غلطیاں اورنقشے میں تبدیلی کی وجہ سے اس کی تکمیل کی مدت میں اضافہ ہوا حکومت منصوبے کیلئے مزید قرضے لینے پرغوروفکرکرے۔اے این پی کے رکن بہادرخان نے کہاکہ خرچ شدہ ضمنی بجٹ کے حوالے سے 2013-14میں کچھ سکولوں کیلئے بجٹ رکھاگیا مگروہ سکول آج تک چالو نہیں ہوئے کچھ سکولوں میں سٹاف موجود نہیں کالجوں میں کلاس روم نہیں لڑکیوں کے سکولوں میں میزکرسیاں نہیں افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کی سات سالوں میں ان پرکوئی کام نہیں ہوا ہسپتالوں کی حالت دگرگوں ہے یاڈاکٹر نہیں یادوائیاں نہیں،ہسپتالوں میں پانی تک موجود نہیں ضمنی بجٹ میں آخرہواکیاہے وہ بتایاجائے جودرخت لگانے کادعویٰ کیاگیا ہے اس کا حساب دیاجائے کہ آیا وہ ٹائیگروں کودیاگیایاواقعی میں لگایاگیاتھاآزاد رکن عبدالکلام وزیر نے پوائنٹ آف آرڈرپرکہاکہ ہمارے صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں بیوروکریسی کوبے لگام کردیاگیاہے حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں سرکاری ملازمین کیلئے بجٹ میں ایک آنہ نہیں رکھاگیا پیپلزپارٹی کے بادشاہ صالح کاکہناتھاکہ ہماراصوبہ سیاحت کیلئے بہت موزوں جگہ ہے کمراٹ کو وزیراعظم نے خاصی اہمیت دی یہاں زمین کی ملکیت کا جھگڑا حکومت کے ساتھ چل رہاہے یہ طے ہوچکاہے کہ یہ زمین یہاں کے لوگوں کی ہے مگرضلعی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ دوروں میں بتایاگیاکہ یہ ملکیت سرکار کی ہے سیری تاٹاپ روڈکب کی منظورہوچکی ہے مگراس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہاہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن شفیق شیرآفریدی نے کہاکہ ضلع خیبرمیں ترقیاتی فنڈکی غیرمنصفانہ تقسیم کوروکاجائے پسند ناپسند کی بنیاد پررقوم کی تقسیم ضلع کے عوام کیلئے زیادتی ہے پورے حلقہ میں ایک بھی گرلز کالج نہیں،باپ پارٹی کی خاتون رکن بصیرت بی بی نے کہاکہ ہمارے ضلع خیبرمیں پینے کے پانی کامسئلہ شدید ہے خواتین دوردراز علاقوں سے پانی لاتی ہیں سکولوں یہاں موجود نہیں ہسپتالوں میں بجلی نہیں ہوتی مریضوں کو شدیدمشکلات کاسامناہوتاہے اے این پی کے پارلیمانی لیڈرسرداربابک نے کہاکہ ضمنی بجٹ میں مختلف محکموں کیلئے رقم مانگی گئی ہے اتنی بڑی رقم کے بعدہمیں منصوبہ بندی کافقدان نظرآرہا ہے مضبوط فنانس مینجمنٹ کی کمی ہے پی ایس ڈی پی کے تحت صوبے میں کتنے اورکہاں منصوبے جاری ہیں؟ہماری صوبے کی بجلی وگیس دیگرصوبے استعمال کررہے ہیں مرکزہمیں کم بجلی دے رہاہے صوبے کاایک جرگہ تشکیل دیاجائے جومرکز سے اپناحق مانگ سکے اس سلسلے میں ہم حکومت کابھرپورساتھ دینگے۔ خوشدل خان نے کہاکہ ضمنی بجٹ میں تنخواہوں اورپنشن کیلئے رقم مانگی گئی ہے ہم تو ریگولربجٹ میں یہ رقم منظورکرواچکے ہیں آیایہ نئی بھرتیاں ہوئی ہیں اس بارے میں ایوان کوبتایاجائے۔ن لیگ کی رکن ثوبیہ شاہد نے کہاکہ ضمنی بجٹ پر2019-20لکھاہے 2020میں تو چھ مہینے ملک بند رہا تواس کی کیاضرورت محسوس کی گئی کہ ضمنی بجت پیش کیاگیابلین ٹری میں جتنے گھپلے ہوئے وہ کافی نہیں تھے کہ مزید کروائے جارہے ہیں جیل خانہ جات،تعلیم،ایکسائز کے لئے مزید رقم کس لئے رکھی گئی ہے ضمنی بجٹ میں لفظ دیگر کوکس مد میں خرچ کیاجائے گا حکومت لاک ڈاؤن میں سب کچھ بندہونے کے باوجود ضمی بجٹ میں مختص کئے جانیوالی رقم کاحساب دے،جے یوآئی رکن مولانالطف الرحمن نے کہاکہ بی آرٹی کے حوالے سے ہم بات کریں تو حکومتی اراکین جذباتی تقریریں شروع کردیتے ہیں آخرپوچھاجائے کہ خرابی ہے کس چیز میں؟اتنی تاخیر کس وجہ سے ہے؟بسیں دھوپ میں کھڑی ہیں گل سڑجائیں گی اربوں کھربوں لگ گئے اس منصوبے،ہماری تنقیدبہتری کیلئے ہوتی ہے صوبے کے عوام کوپتہ ہوناچاہئے کہ ان کے مفاد کیلئے کیاکچھ ہورہاہے انہوں نے کہاکہ حکومتی نااہلی کی وجہ سے پی ایس ڈی پی کی رقم مرکز سے نہیں ملی جسکے وجہ سے آج ضمنی بجٹ میں یہ رقم منظورکروائی جارہی ہے حکومت صوبہ کے وسائل سے استفارہ کرنے کیلئے بہترپالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے قبائلی عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں سابقہ فاٹاکواسکاحق نہیں مل رہا۔ایم ایم اے رکن عنایت اللہ نے فنانس مینجمنٹ ایکٹ کے قیام پرزوردیتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت نے47سال بعد ایکٹ پاس کیا جب تک صوبائی حکومت یہ ایکٹ پاس نہیں کریگی تب تک پارلیمنٹری سکروٹنی موثر نہیں ہوگی ضمنی بجٹ گزشتہ دس سالہ بجٹس سے مماثلت رکھتا ہے ہمیں بتایاجائے کہ صوبے میں فنانس مینجمنٹ ایکٹ کب آرہاہے؟انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں 2017کی مردم شماری کے تحت صوبے کاحصہ بڑھانے کامطالبہ کیا۔حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے کہاکہ ماضی میں جیل خانہ جات کے حوالے سے جیل ریفارمز کمیٹی بنائی گئی تھی اب وقت کا تقاضا ہے کہ جیل ریفارمز کیے جائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو،بی آر ٹی کے حوالے سے اپوزیشن غلط اعداد و شمار دے رہی ہے ساڑھے تین ارب اس منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوگالاہور میں اب بھی رینٹڈ بسیں ہیں لیکن یہاں بی ار ٹی کی اپنی ملکیتی بسیں ہیں بتیس کلومیٹر اس پراجیکٹ میں بسیں،پلازے اورپارکنگ شامل ہیں ساڑھے تیرہ کلومیٹر ایلیویٹڈ ہے ساڑے تین کلومیٹر انڈر پاسز ہیں ڈرائییورز کی ٹرینکنگ شروع ہے منصوبے میں 85فیصد ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کا حصہ اور باقی خیبر پختو خوا کا حصہ بنتا ہے اپوزیشن سے درخواست ہے کہ بغیر تحقیق کے ایوان میں غلط اعداد و شمار نہ دی جائے۔انہوں نے کہاکہ بہت جلد اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گاکم سے کم اجرت برائے مزدور ساڑے سترہ ہزارہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگاانہوں نے کہاکہ ہاوسنگ سوسائٹی پر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ زرعی زمینوں کو تباہی سے بچایا جاسکے اپوزیشن نے بہت بہتر انداز میں اپنا موقف پیش کیاہے۔

Facebook Comments