ماہر صحت نے قوم کو پیشگی آگاہ کر دیا

0 152

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے معروف ماہر صحت نے انتہائی پریشان کن دعویٰ کر دیا ہے۔ ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سابق وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 26اپریل سے 10مئی کے دوران کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کیتعداد تیزی سے بڑھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں اس کے پھیلاﺅ کے طریقے پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وائرس کسی ملک میں داخل ہونے کے 50سے 60دن بعد تیزی سے پھیلنا شروع ہوتا ہے۔ امریکہ، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں ایسا ہی ہوا۔ پاکستان میں پہلا کیس 26فروری کو سامنے آیا تھاجسے اب تقریباً50دن گزر چکے ہیں۔چنانچہ اگلے 10سے 15دن میں پاکستان میں نئے کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔“ اپنے ویڈیو پیغام میں پروفیسر مسعود نے حکومت کو آئندہ دنوں میں کورونا وائرس کی صورتحال انتہائی سنگین ہونے کی تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے روکنے کے لیے حکومت کو ملک بھر میں سخت لاک ڈاﺅن کرنا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے بھی درخواست کی کہ وہ اس جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں اور اس کی طرف سے آنے والی ہدایات پر عمل کریں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے لوکل ٹرانسمٹڈ کیسز کی شرح 60 فیصد ہوگئی ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے ڈیلی میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں کورونا کے مقامی ٹرانسمٹڈ کیسز کی شرح 60 فیصد ہوگئی ہے۔انہوں نے کراچی میں پراسرار اموات کے معاملے پر کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کراچی میں تمام اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی ہیں۔لیبارٹری ٹیسٹ سے پہلے قیاس آرائیاں کرنا غلط بات ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6264 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، اپریل کے آخر تک روزانہ کے ٹیسٹوں کی استعداد کار 20 ہزار تک بڑھائیں گےمعاون خصوصی برائے صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 7 ہزار سے زائد ہے جبکہ ایک ہزار 765 لوگ کورونا سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

Facebook Comments