’پتا نہیں آئی پی پیز سے معاہدے کن لوگوں نے کئے‘

0 124

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگوں کو بجلی ملتی ہے نہ ہی صنعتوں کو مگر آئی پی پیز کو پیسے ملتے رہے ہیں،پتا نہیں کن لوگوں نے ان سے معاہدے کئے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں آئی پی پیز کو زائد ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سیکریٹری پاور ڈویژن، پاور کمپنیوں کے وکیل اور آئی پی پیز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہمارے گلے کا پھندا بنے ہوئے ہیں، دنیا بھر میں اس طرح کے معاہدے منسوخ کیے جارہے ہیں، پتا نہیں کون لوگ تھے جنہوں نے معاہدے کیے، معاملہ نیب کو بھجوا دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمرایوب کو طلب کرلیا۔

دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکریٹری پاور سے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ہر آئی پی پی کو 159 ملین زائد ادائیگی کی گئی، آپ کپیسٹی پے منٹ کرتے رہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عوام کے کروڑوں روپے دے دیے گئے، چاہے وہ بجلی بنائیں یا نہ بنائیں، دنیا بھر میں اس طرح کے معاہدے منسوخ کیے جارہے ہیں۔

سیکریٹری پاور نے عدالت کو بتایا کہ بجلی لیں یا نہ لیں کپیسٹی پے منٹ کرتے رہتے ہیں، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کروڑوں اربوں روپے ایسے ہی ادا کردیتے ہیں، ہم یہ معاملہ نیب کو بھجوادیتے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس بجلی کا شارٹ فال تھا آپ نے سپلائی نہیں کی؟

اس پر پاور کمپنی کے وکیل نے کہا کہ این پی سی سی ڈیمانڈ بتاتی ہے، این پی سی سی بتاتی ہے تو آئی پی پی ایس بجلی بناتی ہیں۔

پاور کمپنی کے وکیل کے مؤقف پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہمارے گلے کا پھندہ بنے ہوئے ہیں، پتا نہیں اس وقت کون لوگ تھے جنہوں نے معاہدے کیے، بجلی دیں نہ دیں پیسے دیئے گئے، یہ لوگ ڈارلنگز تھے، اربوں کھربوں کا سرکلر ڈیٹ بن گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکریٹری پاور سے کہا کہ مجھے اس کیس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، آپ نے ایک پریزینٹیشن بنا کر رکھی ہوگی وہ ہی وزیر اعظم کو دیتے ہوں گے۔

Facebook Comments