کویت سے بھارتیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

0 224

کویت(نیوز ڈیسک ) متحدہ عرب امارات کے بعد اب کویت میں بھی اسلام مخالف پوسٹ اور ویڈیوز شیئر کرنے والوں کی شامت آ گئی ہے۔ کویت کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے ایک بھارتی سول انجینئر کو اسلام مخالف پوسٹ لگانے پر نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ اس متعصب انجینئر نے بھارت کیتبلیغی جماعت کے حوالے سے شرمناک پوسٹ لگائی تھی۔جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیے جانے کے بعداس کی رپورٹ کی گئی۔ بھارتی شہر منگلور سے تعلق رکھنے والا یہ شخص گزشتہ بیس سالوں سے کویت کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں انجینئر کی ملازمت کر رہا تھا۔ سول انجینئر سے کہاگیا ہے کہ جونہی کویت سے بھارت کے لیے پروازوں کا سلسلہ شروع ہو گا، اسے فوری طور پر وطن واپس جانا ہو گا۔چند روز قبل بھارت سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ہوٹل سپروائزر کو بھی تبلیغی جماعت کی توہین پر مبنی کارٹون والی پوسٹ شیئر کرنے پر نوکری سے فارغ کیا گیا اور اسے بھی وطن واپس جانے کا کہا گیا ہے۔ حال ہی میں ایک اور بھارتی خاتون کی جانب سے فیس بک پر قابل اعتراض پوسٹ سامنے آئی ہے جس کے بعد اسے نوکری سے فارغ کیے جانے کا امکان ہے۔ بھارتی خاتون نے اپنا ایک آڈیو میسج پوسٹ کیا ہے جس میں اس نے اپنے تعصب سے بھرپور پوسٹ پر بہت شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔کویت کی کمپنیوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مسلمانوں اوراسلام کے بارے میں شرمناک پوسٹ لگانے اور شیئر کرنے والے کئی ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے اور انہیں وطن واپس لوٹ جانے کا کہا ہے۔اس کے علاوہ ان کے اس جُرم کی مملکت بھر میں تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔کئی خلیجی ممالک میں اسلام مخالف پوسٹ لگانے والے بھارتی ہندوؤں کو جیل بھی بھیجا جا رہا ہے۔جن بھارتی ہندوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ لگائی یا شیئر کی جاتی ہیں، یا کوئی شرمناک کمنٹ کیا جاتا ہے تو صارفین کی جانب سے اس کا سکرین شاٹ لے کر متعلقہ اداروں کو اطلاع کی جاتی ہے۔ جس کے بعد متعصب سوچ رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو انہیں ملازمتوں سے فارغ کیا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک میں واقع بھارتی قونصل خانے ہندو کمیونٹی کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسلام مخالف مواد پوسٹ اور شیئر کرنے سے باز رہیں کیونکہ انہیں اس جرم میں روزگار سے محرومی کے علاوہ قید کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Facebook Comments