کورونا وائرس سے انتقال کرجانیوالی خاتون کے اہلخانہ کی غلط بیانی پورے گاؤں کولے ڈوبی

0 148
پشاور (پیام خیبر) خاتون کے اہلخانہ کی ایک غلط بیانی پورے گاؤں کو لے ڈوبی، پوراگاؤں سیل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقے دیر پائیں میں ایک خاتون کی غلط بیانی کے باعث پورا گاؤں سیل کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ 25 مارچ کو کورونا وائرس کی شکار ہو کر انتقال کرنے والی خاتون 15 مارچ کو سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس آئی تھی۔واپس آنیکے بعد گاؤں میں بڑی دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ داماد کی سیاسی وابستگی کے باعث کئی اہم شخصیات بھی گھر آتی رہیں۔ اور خاتون کالوگوں کے ساتھ میل جول بھی رہا۔ تاہم خاتون کو دل کی تکلیف ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں علامات دیکھ کر ڈاکٹر کو شک ہوا کہ خاتون کوروناوائرس کا شکار ہے۔تاہم ڈاکٹر کے ٹریول ہسٹری پوچھنے پر رشتہ داروں نے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سفری ہسٹری نہیں ہے۔  ڈاکٹر نے ٹریول ہسٹری نہ ہونے پر خاتون کا علاج ایک عام مریض کی طرح کیا، تاہم حالت مزید خراب ہونے پر ڈاکٹرز نے خاتون کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا۔ خاتون کے ٹیسٹ بھی کئے گئے جن کی رپورٹ 27 مارچ کو مثبت آئی۔ جس کے بعد خاتون کے رشتہ داروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خاتون داماد اوربیٹی کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون میں کورنا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد ڈاکٹرز اور نرسس کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔تاہم حوصلہ افراء بات یہ ہے کہ طبی عملہ میں کسی کا کرونا ٹیسٹ مثبت نہیں ہے۔ 1200 سے زائد ا فراد کو ان کے گھروں میں قرنطینہ کرکے علاقے کوسیل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے خاتون کا تعلق ضلع دیر پائیں سے تھا جہاں سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک 2 افراد اس خطرناک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے پر منگا کے علاقے کوبھی سیل کر دیا گیا تھا۔ اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
Facebook Comments