کرونا وائرس پاکستان سے منتقل ہوا؛ ایران

0 182
اسلام آباد (یواین پی) چین کے بعد ایران میں بھی کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کرونا وائرس پاکستان،افغانستان اور چین سے غیر قانونی افراد کے داخل ہونے پر ایران میں پھیلا۔ چین کے بعد ایران میں تیزی سے پھیلتے کرونا وائرس کے پاکستان منتقل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔سرحد پر پاکستان ہاؤس میں سو بیڈ پر مشتمل خیمہ رہائش گاہ برائے زائرین میں چار سو زائرین موجود ہیں۔ جن کی سکریننگ کا عمل جاری ہے۔ان تمام افراد کی 14 دن تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عمران نے کہا کہ سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔ ایران میں کرونا وائرس سے 50 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھی جس کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے 12 افراد کی موت کی تصدیق کی۔ایران میں بدھ کو کرونا وائرس کے مریضوں کی پہلی مرتبہ اطلاع سامنے آئی تھی اور تہران کے جنوب میں واقع اہل تشیع کے لیے متبرک شہر قم میں حکام نے دو ضعیف العمر افراد کی اس وائرس سے موت کی تصدیق کی تھی۔ مشرقِ اوسط میں واقع کسی ملک میں کرونا وائرس سے یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔جب کہ حکومت بلوچستان کے ترجمان میر لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے تفتان بارڈر پر ایران جانے اور آنے والے زائرین اور شہریوں پر پابندی عائد کر دی گئی، ایران میں موجود پاکستانی زائرین مارچ میں واپس آئیں گے ایران سے بات کی جائے گی کہ زائرین کو ابھی ایران میں ہی روکا جائے کرونا وائرس پرقابو پانے تک کوئی بھی شخص یازائرین ایران نہیں جائے گا تفتان میں موجود لوگوں کو کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے گا صوبے کے تمام انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ کی جارہی ہے۔دوسری جانب ایران میں کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی اور آرمینیا نے بھی ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کردیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے صوبوں قم، اردیبل، البرز، مرکزی، ہمیدان، قزوین اور گیلان کی صوبائی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے سدباب کے لئے پرائمری اور مڈل سکولوں، یونیورسٹیوں اور دینی مدرسوں میں سے متعدد ایک دن، بعض 2 دن اور بعض میں ہفتہ بھر بند رکھنے کا اعلان اور ملک بھر میں سپورٹس مقابلوں کو 10 دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا اور تمام ثقافتی و فنّی سرگرمیوں کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
Facebook Comments