قبائلی نوجوانوں کو ہنرمندی کی سہولیات دینے سے ان کی معاشی صورتحال بہتر ہو سکے گی،وزیر اعلی

0 50

پشاور (جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پندرھویں اجلاس میں ارمڑ بالا ضلع پشاور میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ، جبکہ ادیزئی اور مدین میں ٹیکنیکل ٹریننگ اور ووکیشنل سنٹرز کے قیام سمیت دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے منظور شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ فنی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم اور پریکٹیکل ٹریننگ کا خاطر خوا ہ نظام موجود ہونا چاہئیے تاکہ اداروں کے قیام کے مقاصد پورے ہو سکیں۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین سمیت متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم منصوبوں اور امور کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ بالا میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اور ادیزئی میں گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ ووکیشنل سنٹر کے قیام کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان منصوبوں کا قیام عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو صوبائی حکومت پورا کر رہی ہے۔ اجلاس میں سکل ڈویلپمنٹ سنٹر بٹگرام کی اپگریڈیشن، کے پی ٹیوٹا کے لئے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی فرم کی ہائرنگ، مدین سوات میں گورنمنٹ ووکیشنل سنٹر کے قیام، مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن کمیٹی کی تشکیل، کے پی ٹیوٹا اور ہاشو ہنرایسوسی ایشن کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور کے پی ٹیوٹا پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں ٹیوٹا کے زیر نگرانی 66کلاس فور آسامیوں کی تخلیق، ٹیوٹا اور کے پی بی ٹی ای کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ سکل ڈویلپمنٹ کوکے پی ٹیوٹاکے حوالے کرنے کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی، اور واضح کیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع اس سلسلے میں خصوصی توجہ اور کاوشوں کے متقاضی ہیں۔ قبائلی نوجوانوں کو ہنرمندی کی سہولیات دینے سے ان کی معاشی صورتحال بہتر ہو سکے گی اور نوجوان اپنا روزگار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ انہوں نے ایف ڈی اے ملازمین کی زیر التواء تنخواہیں تمام تر ویریفیکیشن کے بعد ریلیز کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ اضلاع میں ٹیکنیکل آسامیاں پُر کرنے کے لئے کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ صوبہ بھر میں ٹیکنیکل تعلیم کے اداروں کا معیارمزید بہتر کیا جائے اور سلیبس میں ایسے کورسز شامل کیے جائے جن سے فارغ التحصیل طلباء کے لئے روزگار کا حصول یقینی ہو سکے۔ محمود خان نے ٹیکنیکل تعلیمی اداروں میں داخلہ کی شرح مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے، جن کے نتائج نظر آنے چاہئیے۔

Facebook Comments