کیا غربت کے باعث دیت ادا نہ کرنے والے کو غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے؟،سپریم کورٹ

0 75
اسلام آباد(یواین پی)سپریم کورٹ نے دیت کی رقم اور اس کی ادائیگی نہ کرنے پر قید کی سزا کی مدت کے تعین کے حوالے سے ڈی جی شریعہ اکیڈمی اسلامی یونیورسٹی، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئیوزارت مذہبی امور کو وفاق المدارس سے رائے لیکر عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔عدالت عظمی کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے اپنے بچوں کو قتل کرنے والے باپ کی سزا کیخلاف اپیل پر جاری کئے گئے شارٹ آرڈر میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے شارٹ آرڈر میں متعدد سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا غربت کے باعث دیت ادا نہ کرنے والے کو غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے؟کیا دیت کی رقم مقرر کرتے وقت ملزم کے مالی حالات مدنظر نہیں رکھے جاتے؟کیا دیت کی عدم ادائیگی پر غیر معینہ مدت کی قید قرآن و سنت کے مطابق ہوگی؟دیت کیلئے حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق 30 ہزار 630 گرام چاندی کے برابر رقم مختص ہے، تعزیرات پاکستان کے تحت وفاق دیت کے تعین کیلئے ملزم کے مالی حالات دیکھنے کا پابند ہے۔سپریم کورٹ نے اہم قانونی نقطے کی تشریح کیلئے وزارت مذہبی امور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مذہبی امور کے توسط سے وفاق المدارس سے رائے مانگی ہے۔معاملہ میں شکیل عباس نامی شخص پر اسکی اہلیہ نے دو کم سن بیٹوں کے قتل کا الزام عائد کیا تھا،جس پر چکوال کی مقامی عدالت نے ملزم کو دو مرتبہ عمر قید اور جرمانہ کیا تھا۔ہائی کورٹ نے واقعہ کو قتل عمد قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید بامشقت اور دیت ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اپنے بچوں کو قتل کرنے والے باپ کی سزا کیخلاف دائر اپیل سپریم کورٹ نے دیت کی رقم اور اس کی ادائیگی نہ کرنے پر قید کی سزا کی مدت کے تعین کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو طلب کر لیا ہے۔
Facebook Comments